مغربی ممالک میں سود سے پاک بینکاری نظریہ کو مل رہی ہے کافی مقبولیت ، بڑی تعداد میں جڑ رہے ہیں لوگ

Oct 27, 2017 07:31 PM IST | Updated on: Oct 27, 2017 07:31 PM IST

نئی دہلی: ماہر اقتصادیات مسٹر ایم کے منک نے کہا کہ مغربی ممالک میں سود سے پاک بینکاری کا نظریہ نے کافی مقبولیت حاصل کی ہے اور لوگ اس نظام سے جڑنے لگے ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معاشیات کے شعبہ میں سابق طلباء لیکچر سیریز کے تحت سود سے پاک بینکاری کے موضوع پر ہونے والی گفتگو کے دوران یہ بات کہی۔

اس نظام میں شامل لوگ اپنے بینک کے منافع اور نقصان دونوں میں شامل ہونے اعتراف کے ساتھ انہوں نے کہا کہ سود سے پاک بینکاری کا ایک اور اہم اصول یہ ہے ایسے بینکوں کی دولت معاشرے پر اثر ڈالنے والے فحاشی، منشیات جیسی قبیح چیزوں کے لئے نہیں دیا جا سکتا ہے۔

مغربی ممالک میں سود سے پاک بینکاری نظریہ کو مل رہی ہے کافی مقبولیت ، بڑی تعداد میں جڑ رہے ہیں لوگ

انہوں نے کہاکہ اس میں یہ خیال رکھا گیا کہ ہندوستان میں سود سے پاک بینکاری کا اختیار بھی ہونا چاہئے کیونکہ مذہبی عقائد کی وجہ سے ملک کے تقریبا ایک کروڑ لوگ بینکاری خصوصیات کا فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ سود کو حرام تصور کرتے ہیں۔

حکومت ہند کے زراعت اور کاشت کمیشن کے اقتصادی مشیر اور 1981 بیچ کے جامعہ ملیہ کے طالب علم رہے ماہر اقتصادیات کے ایم منک پھان عالم المگوتھی نے عالمی بینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں مذہبی عقائد کی وجہ سے تقریبا ایک کروڑے سے زیادہ آبادی بینکوں سے دور رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی آبادی کے بہت سے ممالک ہیں، لہذا سود کو حرام ماننے والے ملک کے اس بڑی آبادی کے لئے سود سے پاک بینکاری نظا م ہونا چاہئے۔ 160انہوں نے کہا کہ تقریبا ایک کروڑ لوگوں کا ملک کی مالی نظام میں شمولیت کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

مسٹر ایم کے منک نے کہا کہ ان باتوں کو دیکھتے ہوئے ہند میں سود سے پاک بینکاری کے تعارف کے بغیر مالیاتی ترقی کا خواب نامکمل رہے گا۔اس موقع پر شعبہ معاشیات کے سربراہ شاہد احمد سمیت بڑی تعداد میں اساتذہ اور طلباء موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز