جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جشن عالمی یوم عربی کا اہتمام

Dec 26, 2017 09:58 PM IST | Updated on: Dec 26, 2017 09:58 PM IST

نئی دہلی : عربی زبان وادب کے فروغ کے لئے سرگرم مرکز ملک عبد االلہ اور سعودی کلچر اتاشی سعودی عربیہ کے اشتراک سے جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے سنٹرآف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز کی طرف سے بروزمنگل 26 دسمبر کو عالمی یوم عربی منایا گیا جس میں سعودی کلچر کے عبداللہ صالح الشتوی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔افتتاحی سیشن کا آغاز کرتے ہو سنٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز کے چیئرپرسن پروفیسر رضوان الرحمن نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور عربی کے عالمی دن کے جشن کو منانے اور ہندوستان میں اس کی نشرواشاعت کی ضرورت پر زور دیا۔

سنٹرکے سابق چیئرپرسن پروفیسر مجیب الرحمن نے عالمی یوم عربی کی اہمیت کو واضح کرتے ہو ہندوستان کے عربوں سے تعلقات پر روشنی ڈالی اور ہندوستان میں عربی زبان کے فروغ میں مرکز ملک عبداللہ کی کوششوں کو سراہا۔ مہمان خصوصی عبداللہ صالح الشتوی نے کہا کہ ہمیں عربی زبان پر فخر ہے اور ہم اس کو فروغ دینے کے لئے بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے عربی الفاظ کے دوسری عالمی زبانوں پر اثرات کا بھی تذکرہ کیا نیز بتایا کہ سعودی کلچر اتاشی عربی زبان میں ہندوستانی ادب و ثقافت کو فروغ دینے اور عرب دنیا کو اس سے متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جشن عالمی یوم عربی کا اہتمام

اس موقع پر اسکول آف لینگویجز، لٹریچر اور کلچرل اسٹدیز کے ڈین پروفیسر راجندر ڈیگلے نے اپنی حسرت کا اظہار کرتے ہو کہا کہ کاش میں عربی بول پاتا کیونکہ جب میں سن رہا تھا تو میرے کانوں کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں جرمن زبان کا طالبعلم ہوں اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ہماری یونیورسٹی میں تقریبا 17 زبانیں اور ان کے کلچر و ثقافت کو پڑھایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد اجمل اسسٹنٹ پروفیسر کے شکریہ کلمات سے اس سیشن کا اختتام ہوا۔

جبکہ دوسرا تعلیمی اور اکادمی سیشن میں جامعہ ملیہ سلامیہ کے عربی ڈپارٹمنٹ کے صدر پروفیسر حبیب اللہ خان، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر عبدالماجد قاضی، سینٹر آف عربک اینڈ افریقن اسڈیز میں ایسوسیٹ پروفیسر عبیدالرحمن طیب، پروفیسر مجیب الرحمن نے عربی زبان اور عملی میدان میں کیئریر کے مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تمام لیکچرس میں یہ بات متفقہ طور پر آئی کہ عربی زبان کے تعلیم وتعلم کے حوالہ سے نئے نئے طرق کے استعمال کرنا چاہئے تاکہ اس زبان کو پڑھ کر طلبہ کو زیادہ سے زیادہ نوکریاں مل سکیں۔

اس موقع پر مختلف سفارت خانوں کے ذمہ دار اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، کیرلا کے ریسرچ اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ وطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز