ہر معاشرے کو متاثر کرنے والی دہشت گردی کے خلاف عالمی کنونشن وقت کی اہم ضرورت: حامد انصاری

نئی دہلی۔ دہشت گردی کو ایک عالمگیر وبا سے تعبیر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری نے کہا کہ اس سے ایک طرف جہاں ہرمعاشرہ اور تقریباً ہر ملک متاثرہے وہیں اس سے زیادہ موجب تشویش یہ ہے کہ اس کے سد باب کے لئے جس بین اقوامی کنونشن کی ضرورت ہے اس کی تکمیل کی راہ میں اب بھی رکاوٹیں حائل ہیں۔

Apr 29, 2017 05:09 PM IST | Updated on: Apr 29, 2017 05:09 PM IST

نئی دہلی۔  دہشت گردی کو ایک عالمگیر وبا سے تعبیر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری نے کہا کہ اس سے ایک طرف جہاں ہرمعاشرہ اور تقریباً ہر ملک متاثرہے وہیں اس سے زیادہ موجب تشویش یہ ہے کہ اس کے سد باب کے لئے جس بین اقوامی کنونشن کی ضرورت ہے اس کی تکمیل کی راہ میں اب بھی رکاوٹیں حائل ہیں۔ آرمینیا اور پولینڈ کے پانچ روزہ دورے کی تکمیل پر واپسی کے سفر میں طیارے پر ہم رکاب صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر انصاری نے کہا کہ بین اقوامی دہشت گردی کے انسداد کے لئے ایک عالمگیر کوشش کی ضرورت کو سب سے پہلے ہندستان نے اجاگر کیا تھا اور جب وہ اقوم متحدہ میں ہندستان کے مستقل نمائندے تھے اس وقت اس تعلق سے ہندستان کی طرف سے ایک جامع عہد کی تجویز پیش کی گئی تھی جس کی تائید کا دائرہ مرحلہ وار وسیع ضرور ہوا ہے لیکن روز اول سے دہشت گردی کی تعریف پر اختلاف نے اسے پا بہ زنجیر کر کھا ہے۔ بعض حلقوں [ان کا واضح اشارہ ملکوں کی طرف تھا] نے تکنیکی اور قانونی حوالوں سے اس کوشش کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔

آرمینیا اور پولینڈ کے دورے میں ہندستانی جمہوریت کو متاثر کرنے والے بعض واقعات پر سوال اٹھائے جانے کی طرف توجہ مبذول کرائے جانے پر نائب صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں سچ بولنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہئے، مشکل تو بات گھمانے میں پیش آتی ہے اور جہاں تک ہندستان کی معاشرتی ساخت کا تعلق ہے تو اس کی اپنی کمیاں بھی ہیں لیکن آئینی اور معاشرتی کمٹمنٹ کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ اپنی جگہ بدستورمستحکم ہے۔ مسٹر انصاری نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہندستان کوئی کنٹرولڈ معاشرہ نہیں ہے ۔ ملک ایک طرف جہاں مریخ پر مشن بھیجنے کا متحمل ہو گیا ہے وہیں کمبھ میلے کا اہتمام آج بھی روایتی احتشام کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ مزید یہ کہ غریبی اور عدم مساوات کے باوجود ہندستان ترقی کر رہا ہے ۔ ملک کی آبادی جہاں اس کی طاقت ہے وہیں رکاوٹ بھی ہے۔

ہر معاشرے کو متاثر کرنے والی دہشت گردی کے خلاف عالمی کنونشن وقت کی اہم ضرورت: حامد انصاری

نائب صدر جمہوریہ ہند، حامد انصاری: فائل فوٹو

مسٹر انصاری کے ساتھ یہاں ٹھیک ٹھیک، چھوٹے اور درمیانے درجے انٹرپرائز وزیر گری راج سنگھ بھی تھے۔ آرمینیا اور پولینڈ کے دورے کو ہمہ جہت طور پر کامیاب بتاتے ہوئے مسٹر انصاری نے کہا کہ’’دونوں دوست ملک ہیں اور ہم ان کے ساتھ دو طرفہ تعاون میں دلچسپی اور زیادہ بڑھانے میں کامیاب رہے‘‘۔ آرمینیا ئی اختراعات اور ہندستانی جگاڑ کا موازنہ کرنے والےایک سوال کے جواب میں مسٹر انصاری نے کہا کہ دونوں کی اپنی جگہ اہمیت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ ایسی کسی بھی جدت کی نوعیت کیا ہے اور اس سے ہماری ضروریات کی کہاں تک تکمیل ہوتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز