سرسید احمد خاں کے مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت : پروفیسر عبدالحق

Oct 06, 2017 07:17 PM IST | Updated on: Oct 06, 2017 07:17 PM IST

علی گڑھ ۔ سینٹر آف ایڈوانس اسٹڈی شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے منعقد سہ روزہ قومی سمینار بعنوان ’سرسید اور انکا عہد ‘ کا انعقاد مسلم یونیورسٹی کے پالیٹکنک کانفرنس ہال میں کیا گیا ۔ اس میں ملک بھر سے ماہرسرسید اوردانشوران نے شرکت کی۔ سبھی نے متفقہ طور پر کہا کہ جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے،  سرسید احمد خاں کی معنویت میں اضافہ ہو رہا ہے۔  ہر دورمیں سرسید کے مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سیمینار میں دوکتابوں کا بھی رسم اجراعمل میں آیا ۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں اسکالرس موجود رہے ۔ ماہر سرسید پروفیسراصغرعباس نے اکثر و بیشتر کئےجانے والے مطالبہ کہ سرسید کو  بھارت رتن سے نوازے جائےکومسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے انکےاعزاز میں کوئی خاصہ اضافہ نہ ہوگا بلکہ سرسید کو انگریز ی زبان میں پوری دنیا تک پہنچانا ہی انکو سچا خراج عقیدت ہے۔ اس پرعلیگ برادری کو سنجیدگی سےغور کرنا ہوگا کیونکہ علی گڑھ پر ہی انکا سب سے بڑا احسان ہے ۔

دہلی یونیورسٹی شعبہ اردو کے پروفیسر ایمرٹس عبدالحق نے کہا کہ سرسید احمد خاں ہر دور میں اپنی معنویت رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گذرتا جائے گا سرسید کی معنویت بھی مزید بڑھتی جائے گی۔ مقررین نے کہا کہ سرسید نے آج سے 150 سال قبل وہ کام کرکے دکھایا جس کی معنویت آج بھی موجود ہے ۔ سرسید کی فکر آج بھی زندہ ہے ، بس اسکو ہمیں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سرسید نے 1857 کے حالات کے بعد جس مشن کو شروع کیا تھا ، وہ ابھی بھی جاری ہے۔  ہمیں اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے پوری دنیا میں اپنا پرچم بلند کرنا ہے۔ بالخصوص  ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے سرسید کے نظریہ پر چلنے کی ضرورت ہے ۔

سرسید احمد خاں کے مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت :  پروفیسر عبدالحق

سرسید احمد خاں کی دو صد سالہ تقریبات آج صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ہراس جگہ منائی جا رہی ہیں جہاں سرسید کے جاننے والے موجود ہیں چاہے وہ مغربی ممالک ہوں ہا مشرقی ممالک۔ ایسے میں سرسید نے جو تعلیم کا پیغام عام کیا تھا۔ آج اس کا احیاء کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانانِ ہند اس مشن میں کتنے کامیاب ہوئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز