بابری مسجد - رام مندر تنازع حل کیلئے اکھاڑہ پریشد اور وسیم رضوی کی اقبال انصاری کے ساتھ ناکام میٹنگ

اکھل بھاڑتیہ اکھاڑہ پریشد کے مہنت نریندر گری مہاراج اور سینٹرل شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے بابری مسجد - رام مندر تنازع کو آپسی بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کیلئے مرحوم ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری کےساتھ میٹنگ کی

Nov 12, 2017 08:36 PM IST | Updated on: Nov 12, 2017 08:36 PM IST

اجودھیا : اکھل بھاڑتیہ اکھاڑہ پریشد کے مہنت نریندر گری مہاراج اور سینٹرل شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے بابری مسجد - رام مندر تنازع کو آپسی بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کیلئے مرحوم ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری کےساتھ میٹنگ کی ، تاہم وہ ناکام رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ میٹنگ مہنت دھرم داس کے بینی گنج میں واقع مندر میں خفیہ طور پر ہورہی تھی ۔

اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ وہ اب ایسی کسی بھی میٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ صلح اور سمجھوتہ کے معاملہ پر اب صرف اجودھیا کے سنتوں سے ہی بات ہوگی ۔ ویسے بھی یہ میٹنگ کافی ادھوری ہی تھی ، کیونکہ اس میں نرموہی اکھاڑہ سمیت ہندو اور مسلم کئی فریق شامل نہیں تھے ۔

بابری مسجد - رام مندر تنازع حل کیلئے اکھاڑہ پریشد اور وسیم رضوی کی اقبال انصاری کے ساتھ ناکام میٹنگ

خیال رہے کہ اس میٹنگ میں وسیم رضوی بھی شامل تھے ، جو ان دنوں رام مندر کی پرزور وکالت کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان اب اجودھیا میں کوئی نئی مسجد نہیں چاہتے ہیں ۔ ان کے مطابق اجودھیا مندروں کا شہر ہے اور یہاں کسی بھی نئی مسجد کی ضرورت نہیں ہے ۔ مسجد فیض آباد اور اجودھیا کے باہر ہی بننی چاہئے ، جس کی تعمیر مسلمان خود کرلیں گے ۔

قابل ذکر ہے کہ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی وقف بورڈ میں بدعنوانیوں کے الزامات میں گھرنے کے بعد سے ہی رام مندر کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے ہیں اور وہ وقتا فوقتا رام مندر کی حمایت میں بیانات دیتے رہتے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز