اردو ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی رابطے کی زبان ہے: پروفیسر ارتضی کریم

Mar 15, 2017 07:44 PM IST | Updated on: Mar 15, 2017 07:44 PM IST

نئی دہلی۔  ہندوستان میں اردو زبان اب بھی رابطے کی زبان کی ہے۔ اس حیثیت سے اس کی ترقی ملک میں ہی نہیں بیرون ملک بھی ہورہی ہے۔ یہ بات قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسرارتضی کریم نے یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اردو خلیجی ممالک کے ائیر پورٹ پر بھی بولی جاتی ہے اور یہ اب رابطے کی زبان بن چکی ہے اور اس سے اردو میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہورہے ہیں اور ائیرپورٹ سمیت بیشتر سفارت خانوں میں اردو مترجم اور ترجمان رکھے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے نیوز چینلوں میں بھی اردو جاننے والوں کو رکھا جارہا ہے جو کہ اردو کی مقبولیت کی علامت ہے۔ انہوں نے قومی اردو کونسل کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تہذیب کو بچانا بھی کونسل کا اہم مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کونسل کی کارکردگی کا ذکر صرف ملک میں ہی نہیں بیرون ملک بھی ہوررہا ہے اور جدہ، کنیڈا سمیت دیگر ممالک کے ادب سے وابستہ حضرات چاہتے ہیں کہ ان ممالک میں بھی اردو کونسل کی طرف سے سیمنار منعقد کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیش نظر اب قومی کونسل سرحدوں کے پار بھی بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے منصوبے بنا رہی ہے۔

قومی اردو کونسل کوانہوں نے اردو کا مستحکم ادارہ بتاتے ہوئے کہا کہ 20سال پہلے جو اردو کے فروغ کا  پودا لگایا گیا تھا وہ اب تناور درخت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی کونسل  اپنے قیام کے اول دن سے ہی اردو کو گھر گھر پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور اس کی توجہ دیہی علاقوں میں سنٹر کھولنے کے ساتھ وہاں اردو کو فروغ دینا بھی ہے۔

اردو ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی رابطے کی زبان ہے: پروفیسر ارتضی کریم

فائل فوٹو

انہوں نے اردو کو نئی ٹکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی کونسل  اردو زبان کو انٹرنیٹ پر متعارف کرانے اور آسانی سے پڑھنے کے لئے ای پب کو ڈیولپ کر رہی ہے اور جلد نستعلیق خط میں اس کے لئے اردو کی تحریر کو پڑھ سکیں گے۔ ای پب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا میں پہلی بار ایسا ہونے جارہا ہے کہ ای پب کے توسط سے خط نستعلیق میں پڑھا جاسکے گا اور اسی کے ساتھ اردو کی ڈکشنری بھی ہوگی اورجس لفظ پر کلک کیا جائے گا اس کا معنی نکل آئے گا۔

انہوں نے قومی اردو کونسل کی طرف سے 17,18 19 مارچ کو منعقد ہونے والے بین الاقوامی سیمینار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ اس میں جہاں ہندوستان میں جو اردو کے تعلق سے بات کی جائے گی وہیں بیرون ممالک میں اردو کی نئی بستی کے حوالے سے بھی بات کی جائے گی۔ اسی کے ساتھ ملک و بیرون ملک اردو کے مسائل پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز