اسرو نے کیا ساوتھ ایشیا سیٹلائٹ لانچ ، وزیر اعظم بتایا جنوبی ایشیائی ملکوں کے ساتھ تعلقات کا نیا باب

May 05, 2017 07:23 PM IST | Updated on: May 05, 2017 07:23 PM IST

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مویدی نے ہندوستانی خلائی تحقیق ادارہ (اسرو) کے ذریعہ آج ساوتھ ایشیا سیٹلائٹ کو داغے جانے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ان ملکویں کے ساتھ تعلقات کا نیا باب شروع ہوگا۔ مسٹر مودی نے ٹوئٹ کیا کہ اس سے جنوبی ایشیا اور ہمارے خطے کو کافی فائدہ ہوگا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور اس نے ملکوں کے ساتھ روابط کے نئے افق کھول دئے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس کامیابی کے لئے سائنس دانوں کو مبارک باد دی اور کہا کہ ہمیں اسرو پر فخر ہے۔

ساوتھ ایشیاسیٹلائٹ کولانچ کئے جانے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ، افغانستان کے صدر اشرف غنی، بھوٹان کے وزیر اعظم زیرنگ ٹوگبے، مالدیپ کے صدر عبداللہ یمین، نیپال کے وزیر اعظم پرچنڈ، سری لنکا کے صدر میتھری پالا سریسیناکے ساتھ بات چیت کی ، جسے قومی ٹیلی ویزن پر نشر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم جنوبی ایشیائی ملکوں کا مشترکہ خاندان ہیں جو امن کی تلاش، ترقی او رعلاقائی اور پوری انسانیت کی خوشحالی کے لئے متحد ہے۔

اسرو نے کیا ساوتھ ایشیا سیٹلائٹ لانچ ، وزیر اعظم بتایا جنوبی ایشیائی ملکوں کے ساتھ تعلقات کا نیا باب

Photo - News18India

خیال رہے کہ ’ساوتھ ایشیا سیٹلائٹ‘ کو جنوبی ہندوستان کے صوبہ آندھرا پردیش میں سری ہری کوٹہ میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے آج پانچ مئی کو شام تقریباً پانچ بجے خلاء میں بھیجا گیا۔ پچاس میٹر اونچا، 2230کلوگرام وزن والے اس سیٹلائٹ کی تیاری پر 235کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے ۔ تاہم لانچ سمیت اس پورے پروجیکٹ پر تقریباً450کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اس مشن کی مدت بارہ سال ہوگی ۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد جون2014 میں جنوبی ایشیائی ملکوں کے لئے ’سارک سیٹلائٹ‘ کا تحفہ دینے کی بات کہی تھی۔نومبر 2014 میں کٹھمنڈو میں اٹھارہویں سارک چوٹی کانفرنس میں بھی انہوں نے اس کا آئیڈیا پیش کیا۔ابھی گذشتہ 30اپریل کو انہوں نے اپنے ماہانہ ریڈیو تقریر میں بھی اس کا ذکر کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’اسے سب کا ساتھ سب کا وکاس(ترقی)‘‘ کے اصول پر تیار کیا گیا ہے۔ اس سے پڑوسی ملکوں کی ضرورتوں کی تکمیل ہوسکے گی اور یہ جنوبی ایشیا میں تعاون بڑھانے کے سمت ایک قابل ذکر قدم ہے۔

خیال رہے کہ اس پروجیکٹ میں نیپال، بھوٹان، مالدیپ، بنگلہ دیش اور افغانستان شامل ہیں جب کہ پاکستان نے اس میں شمولیت سے انکار کردیا تھا۔ اس کے انکار کے بعد ہی اس پروجیکٹ کا نام ’سارک سیٹلائٹ‘ سے بدل کر ’ساوتھ ایشیا سیٹلائٹ‘ کیا گیا۔اسے دسمبر 2016میں ہی لانچ کرنے کا پروگرام تھا لیکن بعض اسباب کی بناپر اس میں تاخیر ہوگئی ۔

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اسرو) کے ذریعہ تیار کردہ یہ سیٹلائٹ ایک کمیونیکیشن سیٹلائٹ ہے۔اس کے کم از کم ایک ایک ٹرانسپانڈر شریک ملکوں کو دئے جائیں گے۔ اسے استعمال کرنے والے ممالک اطلاعات کو اپ لنک اور ڈاون لنگ کرسکیں گے۔ زلزلہ ، سونامی، سیلاب جیسے قدرتی آفات کے دوران مواصلاتی رابطہ برقراررکھنے میں اس سیٹلائٹ کے اہم رول ادا کرنے کی امید ہے۔ اس سے پروجیکٹ میں شامل ممالک اپنے اپنے ٹی وی پروگراموں کی نشریات کو بہتر بناسکیں گے اور ٹیلی میڈیسن کی سہولیات کو فروغ دے سکیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز