مودی حکومت کا نمائندہ مقرر کرنے کا فیصلہ کشمیری عوام تک پہنچنے کیلئے ایک اہم اور دلیرانہ قدم : محبوبہ مفتی

Oct 25, 2017 08:14 PM IST | Updated on: Oct 25, 2017 08:14 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاست میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کے مرکز کے فیصلے کو افہام و تفہیم اور عوام تک پہنچنے کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے پولیس سے کہا ہے کہ وہ زمینی سطح پر ایک ساز گار ماحول قائم کر کے اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرائیں۔ وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے منی گام میں واقع پولیس ٹریننگ سکول میں بدھ کے روز بی آر ٹی سی کے 13 ویں بیچ کی پاسنگ آوٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی سرکا رنے ریاستی عوام تک پہنچنے اور انہیں تشدد کے بھنور سے باہر نکالنے کے لئے ایک اہم اور دلیرانہ قدم اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر مثبت ماحول قائم کر کے بات چیت کے عمل کو کامیاب بنایا جانا چاہئے اس حوالے سے انہوں نے پولیس سے کہا کہ وہ عوامی اعتماد کو تقویت بخش کر اپنا اہم رول ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے ریاست میں امن و قانون برقرار رکھنے میں پولیس کے رول کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے برسوں کے دوران اس فورس کے کئی نوجوان افسروں اور جوانوں کے ساتھ ساتھ فوج اور دیگر حفاظتی عملے نے ریاست میں امن قائم کرنے میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کی۔

مودی حکومت کا نمائندہ مقرر کرنے کا فیصلہ کشمیری عوام تک پہنچنے کیلئے ایک اہم اور دلیرانہ قدم : محبوبہ مفتی

جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی . فائل فوٹو

انہوں نے فورس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو سامنے آکر مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس محکمہ کو صلاح دی کہ وہ ریاست میں صورتحال سے نمٹنے کے دوران ہیلنگ ٹچ طرز عمل اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ اگرچہ سختی سے پیش آیاجانا چاہئے تا ہم اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ بے قصور شہریوں کو کسی قسم کی دقتوں کا سامنا نہ ہو۔انہوں نے پولیس سے ایسی کوششیں کرنے کو کہا جس سے ناراض نوجوانوں کو واپس سماج کے دھارے میں لانے کے لئے آمادہ کیا جاسکے-

محبوبہ مفتی نے روز مرہ کی پولیسنگ کے دوران افواہ بازی اور اشتعال انگیزی کے باوجود معاملات کی تفصیلی جانچ کو ایک اور چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے پولیس سے کہا کہ وہ پیشہ وارانہ عزم پر قائم رہ کر جانچ پڑتال کو حتمی مرحلے تک لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی بال تراشی کے واقعات دیگر ریاستوں میں بھی پیش آئے لیکن جموں وکشمیر ہی ایسی واحد ریاست ہے جہاں انفرادی معاملات میں بھی ایف آئی آر درج کئے گئے اور تحقیقات کے حکم دیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ ان معاملات کی پوری چھان بین کی جائیگی اور ان واقعات میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے پولیس کے جوانوں اور افسروں کی بہبودی کے لئے کئے جارہے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایس آر او43 کے تحت تعیناتیوں کے تمام معاملات کو پچھلے ایک ڈیڑھ برس کے دوران یا تو نپٹایا گیا ہے یا انہیں پایہ تکمیل تک پہنچایا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ فورس کے افسروں کو ترقی کے بہتر مواقعے دستیاب کرانے کے لئے کاڈر رویو بھی کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز