ْجادھو کی ماں اور بیوی کو منگل سوتر، چوڑیاں اور بندی اتروانے پر ہندوستان کا شدید ردعمل

پاکستان کی جیل میں بند ہندوستانی بحریہ کے سابق کمانڈر کلبھوشن جادھو سے ملاقات کے لئے گئیں ان کی ماں اور بیوی کو منگل سوتر، چوڑیاں، بندی اور جوتیاں اتارنے اور کپڑنے تبدیل کرنے پر مجبور کرنے پر ہندستان نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا سلوک دونوں ممالک کے مابین ہوئے اتفاق رائے کی خلاف ورزی ہے۔

Dec 26, 2017 06:08 PM IST | Updated on: Dec 26, 2017 06:08 PM IST

نئی دہلی۔ پاکستان کی جیل میں بند ہندوستانی بحریہ کے سابق کمانڈر کلبھوشن جادھو سے ملاقات کے لئے گئیں ان کی ماں اور بیوی کو منگل سوتر، چوڑیاں، بندی اور جوتیاں اتارنے اور کپڑنے تبدیل کرنے پر مجبور کرنے پر ہندستان نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا سلوک دونوں ممالک کے مابین ہوئے اتفاق رائے کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کل ہوئی اس ملاقات کے بارے میں آج سرکاری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کے اس ملاقات کے لئے اختیار کئے گئے طور طریقوں کو ’خوفزدہ‘ کرنے و الا قرار دیا۔ ترجمان نے کمانڈر جادھو کی اہلیہ کی جوتیاں واپس نہیں کرنے پر پڑوسی ملک کو آگاہ کیا کہ اگر اس نے اس پر کوئی شرارتی حرکت کی تو یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔

مسٹر کمار نے کہا کہ سلامتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان حکومت نے کنبہ کی مذہبی اور ثقافتی حساسیت کی توہین کی ہے اور انہیں منگل سوتر، چوڑیاں اور بندی تک ہٹانے کے ساتھ ساتھ لباس بھی تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا جس کی ضرورت نہیں تھی۔ مسٹر رویش کمار نے بتایا کہ مسٹر جادھو کی ماں کومادری زبان مراٹھی میں نہیں بولنے دیا گیا جو ان کے لئے بول چال کا فطری ذریعہ ہے۔ یہی نہیں پوری ملاقات میں جب بھی انہوں نے مراٹھی میں کچھ کہا تو انہیں ٹوکا گیا اور بعد میں انہیں مراٹھی میں بولنے سے روک دیا گیا۔ میٹنگ کے بعد کمانڈر جادھو کی اہلیہ کی جوتیاں واپس نہیں کی گئیں۔ انہوں نے پاکستان کو آگاہ کیا کہ وہ اس پر کوئی شرارتی حرکت کرنے سے باز آئے۔

ْجادھو کی ماں اور بیوی کو منگل سوتر، چوڑیاں اور بندی اتروانے پر ہندوستان کا شدید ردعمل

جادھو کی اہلیہ اور ماں نے پیر کے روز ان سے ملاقات کی تھی

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پتہ چلا ہے کہ میٹنگ کے دوران مسٹر جادھو بہت تناؤ میں تھے اور دباؤ والے ماحول میں بول رہے تھے۔ بہت صاف پتہ چل رہا تھا کہ پاکستان میں ان کی مبینہ سرگرمیوں پر ان کے بیشتر تبصرے پاکستانی فریق کو صحیح ثابت کرنے کے مقصد سے ان سے زبردستی بلوائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس طریقہ سے یہ ملاقات ہوئی اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ مسٹر جادھو کی مبینہ سرگرمیوں پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش تھی اور اس پوری کارروائی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز