جامع مسجد، دہلی کے قریب دہشت گردانہ حملہ معاملہ: یاسین بھٹکل کے خلاف الزامات طے

نئی دہلی۔ دہلی کی ایک عدالت نے جامع مسجد کے قریب 2010 میں ہوئے دہشت گردانہ حملے سے منسلک دو معاملے میں انڈین مجاہدین (آئی ایم) کے دہشت گرد یاسین بھٹکل کے خلاف الزامات طے کر دئے ہیں ۔

Aug 30, 2017 08:52 AM IST | Updated on: Aug 30, 2017 08:52 AM IST

نئی دہلی۔  دہلی کی ایک عدالت نے جامع مسجد کے قریب 2010 میں ہوئے دہشت گردانہ حملے سے منسلک دو معاملے میں انڈین مجاہدین (آئی ایم) کے دہشت گرد یاسین بھٹکل کے خلاف الزامات طے کر دئے ہیں ۔ عدالت نے اس معاملے میں استغاثہ کی گواہی کے لئے 23 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج سدھارتھ شرما نے بھٹکل کے خلاف الزامات طے کئے۔ قابل ذکر ہے کہ پرانی دہلی میں جامع مسجد کے باہر 19ستمبر 2010 کو موٹر سائیکل پر سوار دولوگوں نے سیاحوں پر فائرنگ کی تھی جس میں دو تائیوانی شہری زخمی ہوئے تھے ۔ اسی دن ایک لاوارث کار میں دھماکہ بھی ہواتھا۔

پولیس نے آئی ایم کے سرغنہ یاسین بھٹکل اور اس کے معاون ریاض بھٹکل اور اقبال بھٹکل کو گرفتار کیا تھا۔ ان لوگوں کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ قتل کی کوشش، جان بوجھ کر لوگوں کو زخمی کرنا اور تعزیرات ہند کے تحت مجرمانہ سازش کرنے، غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) ایکٹ اور آرمس ایکٹ کے الزامات درج ہیں۔ اگست 2013 میں، پولیس نے ہند-نیپال سرحد سے اسد اللہ اختر کے ساتھ یاسین بھٹکل کو گرفتار کیا تھا۔ بھٹکل بم دھماکوں کے واقعات کے لئے دہلی پولیس کے 15 سب سے زیادہ مطلوب دہشتگردوں میں شامل تھا۔ ریاض اور اقبال بھٹکل اب بھی لاپتہ ہے۔

جامع مسجد، دہلی کے قریب دہشت گردانہ حملہ معاملہ: یاسین بھٹکل کے خلاف الزامات طے

یاسین بھٹکل کو پولیس لے جاتی ہوئی: فائل فوٹو۔

مقدمہ کی سماعت کے بعد عدالت نے سید اسماعیل آفاق، عبدالصبور اور ریاض احمد سعیدی کو ثبوتوں کے ناکافی ہونے کی بنا پر بری کر دیا تھا۔ ان تمام پر بھی ایک ہی طرح کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ جج نے بھٹکل اور اس کے ساتھی اسدالله اختر سمیت آئی ایم کے 10 دہشتگردوں پر قتل کی کوشش کرنے ،جان بوجھ کر زخمی کرنے، مجرمانہ سازش کرنے اور غیر قانونی کارروائیوں (روک تھام) ایکٹ اور آرمس ایکٹ کے تحت الزامات طے کیے ہیں۔ عدالت نے اس کیس کے ایک مجرم کی موت کے بعد اس کے معاملے کو ختم کر دیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز