روہنگیا مسلمانوں کی سفاکانہ نسل کشی پر مسلم پرسنل لا بورڈکی سردمہری افسوسناک : شاہی امام سید احمد بخاری

Sep 13, 2017 07:11 PM IST | Updated on: Sep 13, 2017 07:11 PM IST

نئی دہلی : شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کی سرد مہری کو مجرمانہ خاموشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے بھوپال اجلاس سے مسلمانوں کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ مولانا بخاری نے آج یہاں جاری ایک بیان میں بھوپال میں منعقدہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کے اجلاس کی کارروائی پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ بورڈ نے میانمارکے مسلمانوں کی سفاکانہ نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرکے ملت کے ایک سنگین مسئلے کے تعلق سے اپنی سردمہری اور لاتعلقی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے طلاق ثلاثہ جیسے سنجیدہ مسئلے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی اپنی غیر سنجیدگی ظاہر کی ہے۔

امام بخاری نے کہا کہ بورڈ کا اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا جب میانمارمیں مسلمانوں پر توڑے جانے والے بھیانک مظالم اور لاکھوں کی تعداد میں ان کے انخلاء پر پوری دنیا کے مسلمان شدید اضطراب میں مبتلا ہیں اور وہ اس بہیمانہ نسلی تطہیر کے خلاف اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور دوسرے طبقات کی جانب سے بھی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کی سفاکانہ نسل کشی پر مسلم پرسنل لا بورڈکی سردمہری افسوسناک : شاہی امام سید احمد بخاری

جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری: فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک بھی میانمار کی حکومت سے بدترین تشدد بند کرنے اور مسلمانوں کا انخلاروکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس سنگین صورت حال سے مجرمانہ چشم پوشی اختیارکی ہے۔ اس نے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ عملی قدم تو دور، اس سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ وہ ایک قرارداد ہی منظور کر کے میانمارکے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا اور مظلومینِ میانمار کے حق میں ہمدردی کے دو بول بول دیتا۔

امام بخاری نے مزید کہا کہ اگر مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ دار یہ کہیں کہ یہ معاملہ بورڈ کے دائرۂ کار سے باہر ہے تو یہ بات ناقابل فہم ہے۔ جبکہ بورڈ تومسلمانوں کی رہنمائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ اگر بورڈ کی جانب سے یہ کہا جائے کہ وہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کے شرعی مسئلے پر اپنی توجہ مبذول کرتا ہے تو یہ بات بھی افسوسناک ہوگی کیونکہ اسلام میں مسلمانوں کو ملت واحدہ کہا گیا ہے، یعنی پوری دنیا کے مسلمان ایک ملت ہیں۔ ایسے میں کیا میانمار کے مسلمانوں کی بدحالی اور اس انسانی بحران پر بورڈ کو سنجیدگی سے کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا؟ بورڈ کے ذمہ داروں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جب شریعت کے ماننے والے ہی نہیں رہیں گے تو شریعت کا تحفظ کیسے ہوگا؟

امام بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس سے مسلمانوں کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ یہ اجلاس طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے دیئے گئے فیصلے پر غور کرنے کے لیے منعقد ہوا تھا، لیکن بورڈ اس بارے میں بھی مسلمانوں کی نہ تو کوئی رہنمائی کرسکااورنہ ہی کوئی موقف واضح کرسکا۔ واقعہ یہ ہے کہ بورڈ کا اجلاس انتہائی مبہم اور غیر واضح انداز میں شروع ہوا اور ختم ہو گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل بورڈ کے ذمہ داروں کے متضاد بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ جبکہ بورڈ کو کسی بھی معاملے میں ایک متحدہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔بورڈ کے بیان میں جہاں ایک طرف یہ کہا گیا ہے کہ شریعت میں عدالت کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی ۔وہیں دوسری طرف مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عہدیداراپنے بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کاخیرمقدم کرچکے ہیں۔ یہ تضاد بیانی بورڈ کے ممبر اور عہدے داروں کے ذہنی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔جب عدالتی فیصلے کامطالعہ ہی نہیں کیاگیاتوپھرخیرمقدم کس بنیادپرکیاگیاتھا اوربورڈکااجلاس بے مقصدکیوں منعقد کیاگیا؟اس رویہ سے بورڈکے بعض عہدیداروں کی غیرسنجیدگی کاپتہ لگتاہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز