احمد بخاری کا نواز شریف کو خط ، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سرحد پر کشیدگی کم کرنے میں اپنا رول ادا کرنے کی اپیل

Jun 22, 2017 05:18 PM IST | Updated on: Jun 22, 2017 06:05 PM IST

نئی دہلی : جامع مسجد کے شاہی امام مولانا احمد بخاری نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو ایک خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ وہ اپنے منصب اور اثر ورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے عسکریت پسندوں اور حریت رہنماؤں کو فائر بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں میں نے عسکریت پسند نوجوان ،کشمیری رہنماؤں، پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں سےاپیل کی ہے کہ وہ اس بابرکت مہینہ میں فائر بندی اور مذاکرات سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حالات روز بروز دھماکہ خیز ہوتے جارہے ہیں اور ان حالات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ مولانا نے اندیشہ ظاہر کیا کہ امن کا ماحول بنانے میں جتنی تاخیر ہوگی کشمیر کا تصفیہ انتہائی مشکل ہوجائے گا، اس لئے ضروری ہے کہ ہم حکمت اور تدبر سے کشمیر کی تباہی وبربادی سے نکال کر وہاں امن آشتی کا ماحول بنانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کشمیر کے لوگ انتہائی ڈر خوف اور بے بسی کے عالم میں جی رہے ہیں، ان کے امن کے خواب چکناچور ہوگئے ہیں۔

احمد بخاری کا نواز شریف کو خط ، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سرحد پر کشیدگی کم کرنے میں اپنا رول ادا کرنے کی اپیل

فائل فوٹو

شاہی امام نے کہا کہ امن اور بات چیت کا راستہ ہی حقیقت پسندانہ مؤقف ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے کروڑوں مسلمان بھی اس سے آزمائش کے دور سے گذر رہے ہیں کیونکہ جب بھی ہندوپاک کے درمیان کشیدگی ہوتی ہے تو اس کا سیدھا اثر ہندوستان کے مسلمانوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے میری آپ سے مخلصانہ اپیل ہے کہ قابل عمل راستہ یہی ہے کہ سرحدوں پر تناؤ ختم ہو حالات معمول پر آئیں اور دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوں۔

کشمیر کا مسئلہ نہ تو بندوقو ں اور پتھروں سے حل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی فوجی کارروائیوں سے، ہمیں جلد از جلد بات چیت کے لئے ماحول سازگار بنانے چاہئے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہم سب کو وسیع مسائل پر تبادلہ خیال اور بات چیت کے ذریعہ ایسا لاحہ عمل اختیار کرنا چاہئے جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہو۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزیر اعطم اٹل بہاری واجپئی نے کہا تھا کہ ہم دوست بدل سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں، اس لئے موجودہ حالات کے تناظر میں ہمیں دونوں ملکوں اور عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر مذاکرات کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے مثبت اقدام کرنے ہوں گے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام راحت کا سانس لے سکیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز