شاہی امام احمد بخاری کی ماہ رمضان کے احترام میں کشمیر میں سیز فائر کا اعلان کئے جانے کی اپیل

Jun 11, 2017 05:14 PM IST | Updated on: Jun 11, 2017 05:14 PM IST

نئی دہلی: جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری نے رمضان میں جموں و کشمیر کے تکلیف دہ اور تشویشناک حالات اور خون خرابہ کا سلسلہ جاری رہنے پر کشمیری نوجوانوں ، حریت کے رہنماؤں اور پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ اس مقدس مہینے میں امن کی بحالی یعنی سیز فائر کا اعلان کریں اور مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ امام بخاری نے کہا کہ امن کا ماحول بنانے کے لیے سب کو مل کر تعاون دینا ہوگا۔ اسی صورت میں بات چیت کی راہیں آسان ہو سکتی ہیں۔ آج وادی کشمیر میں امن اور کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ امن کیسے قائم ہوگا اور زخموں پر مرہم کیسے رکھے جائیں گے اس بارے میں کشمیری نوجوانوں، حریت کے رہنماؤں، ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

آج حکومت اور احتجاج پر آمادہ عوام بضد ہیں کہ ہم جھکیں گے نہیں۔ احتجاج کرنے والے نوجوان سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کر رہے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے جوان طاقت کے بل بوتے پر اس احتجاج کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صورت حال کشمیر، کشمیری عوام اور ملک و قوم کے حق میں ہے؟ اور کیا اسے یوں ہی باقی رہنے دیا جانا چاہیے؟ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ فوج اور کشمیری نوجوان ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے ہیں۔ حالانکہ ایک وقت ایسا آیا تھا جب کشمیر میں سیلاب آیا تو اسی فوج نے اس موقع پر کشمیری عوام کی بھرپور مدد کی تھی اور کشمیری عوام نے فوج کی تعریف کی تھی۔ لیکن حالات نے اچانک پلٹا کھایا اور وہ بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔

شاہی امام احمد بخاری کی ماہ رمضان کے احترام میں کشمیر میں سیز فائر کا اعلان کئے جانے کی اپیل

انہوں نے اپنی اپیل میں کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم ہمیشہ امن کے داعی رہے ہیں، ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ ہم اس راستے سے کیوں بھٹک گئے؟اس وقت پوری دنیا کے عوام خون خرابے کے خلاف ہیں۔ اسلام تو خود ہی سلامتی کا مذہب ہے اور امن کا پیغام دیتا ہے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس وقت ہندوستان اور پاکستان کے عوام اور بشمول ہندوستان کے کروڑوں مسلمان امن کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم ہوں۔ اسی میں دونوں ملکو ں کی بہتری ہے۔ پتھراؤ، حملے اور انسانی جانوں کا اتلاف کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتے۔ ان حالات کی وجہ سے ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کو بھی آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

اسی کے ساتھ ہمیں کشمیریوں کے درد، ان کے مسائل اور ان کی مشکلات کو بھی سمجھنا ہوگا۔ پچھلے تیس سالوں میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اس کا ازالہ کرنا ہوگا۔ ہمیشہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی، جنازوں میں شریک کشمیریوں پر گولیاں برسائی گئیں، راہ چلتے کشمیری نوجوانوں اور گھر کے باہر بیٹھے بے قصور لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور عورتوں کی عصمتیں لوٹیں گئیں۔ آخر اس کے لیے کون سی سیاسی پارٹی اور کون سے لوگ ذمہ دار ہیں؟ ہمیں کشمیریوں کے درد کا مداوہ کرنا ہوگا اور کوشش کرنی ہوگی کہ ہم عام کشمیریوں کے دلوں کو جیت پائیں۔

سابق وزیر اعظم شری اٹل بہاری واجپئی نے اس بارے میں کوششیں کی تھیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہم دوست بدل سکتے ہیں مگر پڑوسی نہیں بدل سکتے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے آج ہمیں خود کو بدلنا ہوگا۔ اس کے لیے حکومت کو بھی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ اسے تمام فریقوں سے مذاکرات کرنے ہوں گے۔ پاکستان سے بھی بات چیت کرنی ہوگی۔ مذاکرات ایک پرامن اور سازگار ماحول میں ہوتے ہیں، پتھراؤ کے ماحول میں نہیں۔ ہمیں وہ ماحول پیدا کرنا ہوگا تاکہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز