انتخابات کوفرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش ملک کے لئے انتہائی خطرناک :جماعت اسلامی ہند

Mar 04, 2017 05:00 PM IST | Updated on: Mar 04, 2017 05:00 PM IST

نئی دہلی۔ جماعت اسلامی ہند یہ محسوس کرتی ہے کہ متنوع تہذیب و ثقافت کے حامل وطن عزیزکو نفرت اور تعصب کی راہ پر لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انسانیت ، رواداری اور بھائی چارہ جیسی قدریں تیزی سے دم توڑ رہی ہیں ، یہ صورتحال سب کے لئے انتہائی مہلک ہے اورملک کے سنجیدہ اور فکرمند شہریوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ عوام کا ایک بڑا طبقہ اس کے خلاف ہے اور شرپسند عناصر مٹھی بھر ہیں۔مذکورہ باتیں امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے آج مرکز جماعت اسلامی ہند کے کانفرنس ہال میں منعقد ماہانہ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے دوران خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ امیر جماعت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی پانچ ریاستوں میں حالیہ انتخابات کے دوران بعض سیاسی رہنماؤں اورخود وزیراعظم اور ان کے رفقاء کار نے جس طرح نفرت انگیز اور تفریق آمیز بیانات دیے اس سے نہ صرف جمہوریت پامال ہوئی ہے، بلکہ حکومتی عہدے اور منصب کا وقاربھی مجروح ہواہے اور پوری دنیا میں ملک کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل عدالتِ عظمی نے مذہب اور ذات پات کے استعمال کو قابل تعزیر قرار دیاتھا، لیکن سیاسی رہنمااپنی اشتعال انگیز تقریروں کے ذریعہ نہ صرف ملک کے سماجی تانے بانے کو منتشر کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے بلکہ قبرستان اور شمشان اور رمضان اور دیوالی کے نام پر انہوں نے انتخابات کوفرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم دینے کی کوشش کی جو ایک جمہوری ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔

مولانا عمری نے کہا کہ جماعت اسلامی ہندالیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملک

انتخابات کوفرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش ملک کے لئے انتہائی خطرناک :جماعت اسلامی ہند

مولانا جلال الدین انصر عمری، فائل فوٹو

کے مختلف طبقات کے درمیان نفرت و عداوت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرے ،تاکہ جمہوریت کی بقا و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔جماعت اسلامی ہند بدزبانی اور ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کی سیاست پر بھی قدغن لگانے کی اپیل کرتی ہے۔ امیر جماعت نے پریس کانفرنس کے دوران معروف ملی قائد،سابق ممبرپالیمنٹ،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدرسید شہاب الدین کے انتقال کو ملت کابہت بڑا خسارہ قرار دیتے ہوئے ان

کے حق میں دعائے خیر کی اور پسماندگان کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک جہاندیدہ و بے باک قوم کے خادم کو کھو دیا ہے اور یہ ایسا خلا ہے جسے تادیر پرُ نہیں کیا جا سکتا ۔ اس موقع پر امیر جماعت نے تعلیم گاہوں(کالجوں اوریونیورسٹیوں کے کیمپس)میں فسطائی طاقتوں کے بڑھتے اثرورسوخ پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی کے رام جس کالج میں بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے ممبران نے جس طرح طلبہ، اساتذہ اور صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی تذلیل کی، یہ انتہائی قابل مذمت اورتشویش ناک ہے۔انہوں نے مزید  کہا کہ دہلی پولس اور صحافیوں، نیز سینکڑوں طلبہ کے سامنے ان لوگوں نے جس طرح اپنے مذموم عزائم کو پورا کرنے کی کوشش کی،جماعت کا خیال ہے کہ ا ن مذموم حرکتوں کے لئے انہیں اپنے سیاسی آقاؤں کی پوری سرپرستی حاصل ہے۔ اسی بناپر انہیں انتظامیہ اور قانون کا کوئی خوف نہیں ہے

اوروہ بے خوف و خطر اور منصوبہ بند طریقے سے ان گھناؤنی حرکتوں کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

مولانا عمری نے صحافیوں کو یاد دہانی کرائی کہ یہ وہی عناصر ہیں جنہوں نے ہونہار طالب علم نجیب کو غائب کیا اورریسرچ اسکالر روہت ویمولہ کو خودکشی پر مجبور کیا۔اس کے علاوہ بھی کئی تعلیمی اداروں میں جبر و تشدد کا راستہ اختیار کرکے اظہار خیال کی آزادی کے بنیادی حق پر پابندی لگانے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند طلبہ،نوجوانوں اور سول سوسائیٹی سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ملک اور اس کے ثقافتی ورثے ، تعلیمی اداروں کی خودمختاری،سیکولرزم کی بقااور آزادی رائے کے تحفظ کے لئے متحدہ محاذ بناکر فسطائی قوتوں کے خلاف صف آرا ہوں تاکہ ملک امن و امان اور عدل و انصاف کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکے۔  نائب امیرجماعت اسلامی ہندنصرت علی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت امریکہ میں بڑھتے ہوئے نسلی امتیازات کے تعلق سے اپنی تشویش کا اظہار کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس ملک کی شناخت ہی رواداری اور باہمی اخوت کی بنیاد پر قائم ہووہاں اس طرح کے واقعات کا پیش آنا انتہائی تشویش کی بات ہے ۔مسٹر علی نے کہا کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے جس نفرت انگیز سیاست سے اپنی صدارتی مہم کا آغاز کیا تھا آج اس کے تباہ کن نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے

کہا کہ ہندوستانی نژاد انجینئر سری نواس کوایک امریکی شہری نے 22؍ فروری کو کنساس میں بے رحمی سے یہ کہتے ہوئے گولی مار دی کہ وہ اسے اپنے ملک میں دیکھنا گوارا نہیں کرتا ہے۔جماعت اسلامی ہند مقتول سری نواس کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے اورحکومت ہند سے اپیل کرتی ہے کہ ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز