بابری مسجد معاملہ میں جماعت اسلامی ہند کو سپریم کورٹ سے انصاف کی امید

Dec 02, 2017 09:27 PM IST | Updated on: Dec 02, 2017 09:27 PM IST

نئی دہلی۔ بابری مسجد معاملے میں ہمیں انصاف ملے گا اور فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔ اس امید کا اظہار مرکزی جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری نے اپنی ماہانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بابری مسجد کی 25ویں یوم شہادت کے موقعے پرامیر جماعت نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہند بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، انسانی حقوق تنظیم اور تمام عدل و انصاف پسند عوام بلا لحاظ مذہب و ملت یہ عہد کرتے ہیں کہ بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر اور اسے بحال کرنے کی پر امن اور قانونی تحریک کو جاری رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے 6دسمبرکو ہندستان کی تاریخ کا انتہائی تاریک دن قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی مسجد کو شہید کرنے والے بے خوف اور آزاد گھوم رہے ہیں اور حکومت انھیں گرفتار کرنے کی جراءت نہیں کر سکی ہے۔ لبراہن کمیشن نے اپنی رپورٹ جون 2009میں ہی پیش کر دی تھی، مگر اس پر آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ بابری مسجد کی ملکیت کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آئے گا۔ جماعت پھر سے اپنا موقف واضح کرنا چاہتی ہے کہ مسلمانان ہند، مسلم پرسنل لا بورڈ اور تمام دینی و ملی جماعت اس بات پر متفق ہیں کہ بابری مسجد کا مسئلہ عدالت کے ذریعہ ہی حل ہونا چاہیے اور عدالت جو فیصلہ کرے گی وہ سب کے لیے قابل قبول ہوگا۔

بابری مسجد معاملہ میں جماعت اسلامی ہند کو سپریم کورٹ سے انصاف کی امید

جماعت اسلامی ہند کے ماہانہ پریس پروگرام میں امیر جماعت مولانا سید جلال الدین عمری میڈیا اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے: فائل فوٹو۔

دسمبر میں گجرات میں ہونے والے اسمبلی انتخابات پر امیر جماعت نے کہا کہ گذشتہ برسوں میں گجرات کی معیشت کافی متاثر ہوئی ہے۔ سماجی اور اقتصادیات کے بیشتر شعبوں میں گجرات ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے کافی پیچھے ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے پورے ملک کی معیشت، خاص طور پر گجرات کی معیشت کوکافی نقصان پہنچایا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند توقع رکھتی ہے کہ گجرات کے عوام اپنے ووٹ کا استعمال پوری ذمہ داری کے ساتھ کریں گے ۔ ووٹ کا استعمال عوام کی فلاح اور جمہوریت کی بقا کے لیے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کا ہمیشہ سے یہ واضح موقف رہا ہے کہ انتخابات میں صرف انہیں امید واروں کو ووٹ دیا جائے جو فرقہ پرستی کے مخالف، جمہوری اقدار کے پاسدار ، بد عنوانی سے پاک اور اخلاقی اقدار کے پابند ہوں۔ جماعت سمجھتی ہے کہ گجرات انتخابات میں سیکولر ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے تاکہ غریب اور اقلیتوں کے حقوق کو محفوظ کیا جا سکے۔ گجرات اسمبلی انتخابات میں جماعت اسلامی ہند جن امیدوارں کی تائید کرنا چاہتی ہے اس کی فہرست جلد ہی اپنے گجرات حلقہ کے ذمہ داروں سے مشورہ کے بعد جاری کرے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز