حکومت ہند بے کس روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے مزید با معنی کردار ادا کرے : امیر جماعت اسلامی ہند

Sep 10, 2017 09:26 AM IST | Updated on: Sep 10, 2017 09:26 AM IST

نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی ہندمولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ جماعت چاہتی ہے کہ ہندوستان کی حکومت برما کے بے کس روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے مزید با معنی کردار ادا کرے۔ ہندو ستانی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے مسائل اور حالات پر برما کی حکومت سے گفت وشنید کرے اور برمی حکومت پر دباؤ بنائے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے آئینی اور شہری حقوق کو بحال کرے۔ مولانا عمری نے کہا کہ ہم ہندوستان کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ جو روہنگیا ئی مسلمان ہندستان میں پناہ گزیں ہیں ان کو حکومت ہند پناہ گزینوں کی حیثیت سے ا س مدت تک یہاں رہنے دے جب تک میانمار میں ان کے دستوری و شہری حقوق بحال نہیں ہو جاتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مصیبت زدہ انسانوں کی رہائش ، کھانے و دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آگے آئیں اور جہاں تک ممکن ہو ان کی مالی امداد بھی کی جائے۔ مرکز جماعت اسلامی ہند میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ہندوستان کے وزیر اعظم کے حالیہ برما دورے سے متعلق صحافیوں کے سوال کے جواب میں جماعت کے نائب امیر نصرت علی نے کہا کہ انڈونیشیا کے حالیہ ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں ایک قرار داد پاس کیا گیا تھا جس میں روہنگیا مسلمانوں کے اوپر ہو رہے ظلم و تشدد کی مذمت کی گئی تھی۔ ووٹنگ کے دوران ہندوستانی کا نمائندہ غیر حاضر تھا۔ اس سے حکومت کے موقف کو سمجھا جا سکتا ہے۔

حکومت ہند بے کس روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے مزید با معنی کردار ادا کرے : امیر جماعت اسلامی ہند

نصرت علی نے مزید کہا کہ ہمارا احساس ہے کہ ہندوستان کو چاہیے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کو روکنے کے لیے میانمار حکومت پراپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرے ۔ انسانی تباہی پر ہندوستان کی خاموشی حیران کن ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ گوری لنکیش کی طرح ہی گذشتہ چند برسوں میں دابھولکر، پانسارے اورکلبرگی جیسے دانشورں ، مصنفین اور سماجی کارکنوں کا اسی طرح بہیمانہ قتل کر دیا گیا تھا۔ جماعت کی نظر میں ملک کے تمام شہریوں کو اختلاف رائے کا بنیادی حق حاصل ہے اور محترمہ گوری کا قتل ان تمام لوگوں کی مخالفت کی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے جو انصاف کی حمایت اور فاشزم کی مذمت کرتے ہیں ۔

سکریٹری جنرل نے کہا کہ مختلف رائے رکھنے والوں کو تشدد کے ذریعہ خاموش کر نے کا یہ فاشسٹ رجحان ملک میں امن و امان ، پریس اور ر اظہار رائے کی آزادی ا ور ترقی پر براہ راست حملہ اور جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین خطرہ ہے ۔ اس رجحان کو روکنے کی ذمہ داری حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز