مسلم معاشرے میں طلاق کی شرح دیگر مذاہب کے مقابلہ میں انتہائی کم

جماعت اسلامی ہند کے زیراہتمام دہلی کے آئی ٹی او پر واقع راجندر بھون میں ایک سمپوزيم بعنوان جینڈر جسٹس اور ہمارا سماج کا انعقاد کیا گیا ۔

May 03, 2017 10:42 PM IST | Updated on: May 03, 2017 10:42 PM IST

نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے زیراہتمام دہلی کے آئی ٹی او پر واقع راجندر بھون میں ایک سمپوزيم بعنوان جینڈر جسٹس اور ہمارا سماج کا انعقاد کیا گیا ۔ سمپوزیم میں شریعت اسلامی اور مسلمانوں میں بیداری کی ضرورت کے تعلق سے اظہار خیال کیا گیا، جس میں میڈیا کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی ۔ جماعت اسلامی ہند کے ذریعہ جاری مسلم شریعت بیداری مہم 7 مئی تک ملک کے مختلف حصوں میں مسلم اور دیگر لوگوں کو مسلم شریعت کے بارے میں بیدار کرنے کے لیے چلائی جا رہی ہے، جس کا اب تک کئی کروڑ لوگ حصہ بن چکے ہیں ۔

تین طلاق اور حلالہ جیسی شریعت کی اہم باتوں پر مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے جماعت اسلامی ہند کے ذریعہ چلائی جارہی بیداری مہم اپنے آخری پڑاؤ پر پہنچ چکی ہے ۔ تنظيم کا دعوی ہیں کہ اب تک تنظیم سے وابستہ کروڑوں لوگوں کو مسلم شریعت اور اس کے اہم مسئلوں کے بارے میں بیدار کیا جا چکا ہے ۔ ساتھ ہی جماعت کے سكریٹری سلیم انجینئر کا کہنا ہے کہ جس طرح سے شرعی مسائل کو طول دیا جا رہا ہے اور شریعت اسلامی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ مسئلہ زمین پر اتنا سنجیدہ نہیں ہے ۔

مسلم معاشرے میں طلاق کی شرح دیگر مذاہب کے مقابلہ میں انتہائی کم

سمپوزيم میں سینئر صحافی منیشا بھلا نے جماعت اسلامی کی مہم کی تعریف کی اور کہا کہ کسی بھی معاشرے میں برائی علم کمی کی وجہ سے پھیلتی ہیں، جس کی وجہ سے اس طرح کی مہم بےحد ضروری ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پروگرام کی دوسری مہمان اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر حسنی ہاشیہ نے کچھ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مسلم معاشرے میں طلاق کی شرح دیگر مذاہب کے مقابلہ بہت کم ہے ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز