جامعہ ازہر ہند کے نام سے روایتی و عصر ی یونیورسٹی کے قیام کا اعلان

May 20, 2017 09:06 PM IST | Updated on: May 20, 2017 09:06 PM IST

نئی دہلی: ملک میں سب کے لئے تعلیم کو عام کرنے کے مقصد سے جامعتہ الازہر ہند کے نام سے روایتی و عصری تعلیمی ادارہ کے قیام کا آج یہاں اعلان کیا گیا۔جس کے دروازے تمام مذاہب و مسالک کے افراد کے لئے کھلے ہوں گے۔ جامعہ ازہر کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے اس موقع پر بتایا کہ ملک کے تمام طبقات کے درمیان تعلیم کو عام کرنے کی تحریک چلانا اور ملک کے کونے کونے میں روایتی اور عصری تعلیم کے ادارے قائم کرنا اور بالخصوص تعلیمی میدان میں پچھڑ جانے کی وجہ سے پسماندگی کا شکار ہوجانے والے طبقا ت کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینا مجوزہ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد ہے۔انہوں نے کہا کہ جامعہ ازہر ہند کوئی روایتی دینی تعلیمی ادارہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک تعلیمی و اصلاحی، اخلاقی و روحانی ترقی کے ساتھ نئی نسل کو سماجی و معاشرتی ہر اعتبار سے بااختیار بنانے کی تحریک ہے۔

مولانا اظہر مدنی نے بتایا کہ اس ادارہ میں حصول علم کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوگی نیز مسلم ، ہندو، سکھ ، عیسائی، جین ، بدھ ، بہائی سب کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں۔ اس میں سائنس ، ریاضی، اقتصادیات، صحافت جیسے عصری علوم کو دینی اور اخلاقی بنیاد پر پڑھایا جائے گا۔ انہو ں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں فاصلاتی کورسیز کا بھی انتظام ہوگا اور اس کا نصاب ہندوستان کی اہم جامعات کے علاوہ عالم اسلام کی چنندہ یونیورسٹیوں اور جامعات کے نصاب کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اس میں قدیم و جدید کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔

جامعہ ازہر ہند کے نام سے روایتی و عصر ی یونیورسٹی کے قیام کا اعلان

فائل فوٹو

اس موقع پر مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھ پور کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع نے امید ظاہر کی کہ یہ یونیورسٹی علم دین اور علم دنیا کے نام پر پائی جانے والی خلیج کو دور کرے گی۔قدیم و جدید کی بحث کو دلیل کم نظری قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدارس کی جو مہتم بالشان خدمات او ر تاریخ رہی ہے اس کی بازیافت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ جس امت کے اندر مائیں تعلیم یافتہ ہوں گی وہ قوم جاہل نہیں ہوسکتی۔

جامعہ ازہر ہند کے سرپرست جمعیت اہل حدیث ہند کے جنرل سکریٹری مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے ملک میں تعلیم کی خراب صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہندوستانی قوم کوترقی کے میدان میں دیگر ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کے لئے سب سے پہلے تعلیم کو عام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا چاہئے۔

اس موقع پر بہار کے سابق وزیر شکیل الزماں انصاری، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری مونالارفیق احمد قاسمی، مولانا سید اطہر حسین دہلوی، پروفیسر ابن کنول، ڈاکٹر جنید حارث، پروفیسر ڈاکٹر سہراب، نجم الحسن اثری، نثار احمد مدنی، عبدالرحمان سلفی، ڈاکٹر عبدالماجدندوی وغیرہ نے اپنے خیالات کااظہار کیا۔ خیال رہے کہ جامعہ ازہر ہند کے 30رکنی تعلیمی بورڈ میں پنڈت این کے شرما اور ڈاکٹر کرشنا مینن(جوائنٹ ڈائریکٹر راجیہ سبھا) کے نام شامل ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز