جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ارلی چائلڈ ہڈ کے تحت فوسٹر کیئر میں ملے گا ضرورت مندبچوں کو دو ستانہ ماحول

Jun 18, 2017 03:17 PM IST | Updated on: Jun 18, 2017 03:17 PM IST

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کا شعبہ ارلی چائلڈ ہڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹر ان غریب اور یتیم بچوں کے لئے ایسی کوشش کررہا ہے جہاں نہ صرف ان کودو ستانہ ماحول ملے گا بلکہ ماں باپ کی شفقت بھی ملے گی۔ یہ بات اس کے ڈائرکٹر پروفیسر زبیر مینائی نے بتائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کونسلنگ کے ذریعہ ایسے غریب، یتیم اور ضرورت بچوں اور ایسے افراد کو تلاش کر رہے ہیں جو ان بچوں کی دوستانہ اور والدین کی طرح پرورش کرسکیں اور یہ ایسے کچھ فیملی سامنے بھی آئے ہیں جو یہ ذمہ داری ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارا ہدف وہ جوڑے ہیں جن کے بچے نوکری کے سلسلے میں باہر رہتے ہیں اور وہ تنہائی کا شکار ہیں ایسے خاندان کو تیار کرتے ہیں کہ وہ ایک بچے کا تعلیمی اور روزہ مرہ کے اخراجات کو برداشت کریں تاکہ ان بچوں کا نہ صرف دوستانہ ماحول میں پرورش ہو بلکہ والدین کی کمی کا احساس نہ رہے۔

انہوں نے کہاکہ چھوٹے بچے لیکر 18سال کی عمر کے تک بچوں اس کے دائرہ میں لایاگیا ہے۔ اس شعبے کا مقصد ان بچوں کی بھی مین اسٹریم کے بچوں کی طرح نہ صرف پرورش کرنا ہے بلکہ ان کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور نکھارنا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ کچھ خاندان اس کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔اسے فوسٹر کےئر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے بچوں کوان خاندان کے حوالہ کرکے یہ شعبہ بری الذمہ نہیں ہوجاتا بلکہ ان کی نگرانی بھی کرتا ہے اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹ ان کی مدد کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بچوں کے انتخاب میں بہت ہی احتیاط برتا جاتاہے اور پہلے کیس کی اسٹڈی کی جاتی ہے ، بچوں اور خاندان کو دیکھا جاتا ہے کہ دونوں آپس میں رہ سکتے ہیں یا نہیں اور اس کے بعد کفیل (خاندان) کے حوالے کیا جاتا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ارلی چائلڈ ہڈ کے تحت فوسٹر کیئر میں ملے گا ضرورت مندبچوں کو دو ستانہ ماحول

مسٹر مینائی نے بتایا کہ شیخ الجامعہ پروفیسر طلعت احمد کا خیال ہے کہ ہم سب کو ایسے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک ساتھ آنا چاہئے اور ہمیں ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ایسے بچوں کی دیکھ بھال کے خیال کو اپنانا چاہئے۔ وائس چانسلر کے مطابق 170ملین بچوں میں سے 30 ملین بچے یتیم ہیں جن کی دیکھ بھال کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ہندوستان میں باقی ملکوں سے زائد بچے ہیں اور ہندوستان کی مجموعی آبادی میں 40فیصد بچے ہیں اور ان 40فیصد بچوں میں سے 40فیصدبچوں کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں مرکزی اور ریاستی حکومت کوشش کر رہی ہے ایسے بچوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ اس شعبے کا مقصد بچوں کو حقوق دلانا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ تاکہ ان کا بھی مستقبل دیگربچوں کی طرح تابناک بن سکے۔ انہوں نے کہاکہ اس کے لئے ہم بیداری مہم بھی چلارہے ہیں اور فوسٹر کے لئے کونسلنگ سروس سے ایسے خاندان کی مدد کی جاتی ہے، بچوں کی صلاحیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہلی کے ساؤتھ اور ساؤتھ ایسٹ ڈسٹرکٹ میں سنٹرکھولاگیا ہے ۔ ہمارا ملک کا پہلا ایسا شعبہ ہیجس کو حکومت نے یہ ذمہ داری سونپی ہے۔

ارلی چائلڈ ہڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹر 2016میں جامعہ میں سیو دی چلڈرن کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا اور جامعہ کے اس ادارہ نے غریب نادار،یتیم اور ضرورت مند بچوں کی فلاح بہبود کے لئے این آر سی ایف سی نامی تنظیم قائم کی ہے۔ سیو دی چلڈرن 1960سے برطانیہ میں کام کر رہا ہے۔ ہندوستان میں یہ 2008 سے’ بال رکشا بھارت‘ کے نام کام کر رہا ہے اور اس کی اب تک 6.1ملین بچوں تک پہنچ ہوچکی ہے۔ اسی طرح شعبہ ارلی چائلڈ ہڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کے ایک اور معاون رینبو فوسٹرنگ کا قیام 1998میں برطانیہ میں ہوا تھا ۔ جامعہ نے اکتوبر 2016میں اس کے ساتھ ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کیا تھا۔ جامعہ کے ارلی ہڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹر دونوں کے تعاو ن سے چلتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز