جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کو لے کر وائس چانسلر نے کہی یہ بڑی بات

Oct 10, 2017 08:59 PM IST | Updated on: Oct 10, 2017 08:59 PM IST

نئی دہلی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات کرانے کے لئے مختلف طلبہ تنظیموں کی طرف سے جاری مہم کے درمیان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد  نے آج وضاحت کی کہ چونکہ یہ معاملہ عدالت کے زیر غور ہے اس لئے یونیورسٹی عدالت کی اجازت کے بغیر کسی بھی طرح کے اقدام یا عمل کرنے کی مجاز نہیں ہے۔  یونیورسٹی کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق طلباء کے ایک وفد نے 5 اکتوبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر اور دیگر یونیورسٹی انتظامیہ سے ملاقات کی اور انھیں ایک میمورنڈم سونپا جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹ یونین کے قیام کے لئے انتخاب کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ وائس چانسلر نے طلباء کی باتیں سنیں اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ جامعہ میں اسٹوڈنٹ یونین کی بحالی کے لئے وہ ضروری اقدامات کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وائس چانسلر نے طلبا کے وفد کو ان قانونی اور تیکنیکی پیچیدگیوں کے بارے میں بھی بتایا جن کی وجہ سے فی الحا ل اسٹوڈنٹ یونین کا الیکشن کرنا ممکن نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وائس چانسلر نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ میں کچھ طلباء نے 2012 اسٹوڈنٹ یونین کے قیام کی خاطر پٹشن دائر کی تھی۔ اس سے متعلق ریکارڈ اور دستاویزات محفوظ نہیں ہیں اور حتمی سماعت کی خاطر ریگولر میٹر کے طور پر مقدمہ جاری ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کو لے کر وائس چانسلر نے کہی یہ بڑی بات

جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد: فائل فوٹو

یونیورسٹی نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت قانونی طور پر اس معاملہ میں محض تین آپشن ہیں۔ درخواست دہندہ ہائی کورٹ سے اپنا کیس واپس لے لے ۔ یا ریگولر طلباء جو کہ ابھی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں ہائی کورٹ میں اپروچ کریں کہ اس معاملہ میں ترجیحی بنیاد پر انھیں راحت دی جائے ۔ یا پھر یہ ایک ریگولر میٹرکے طور پر اپنے اصولوں کی بنیاد پر جاری رہے ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئی بھی اقدام یا عمل کرنے کے لئے یونیورسٹی بغیر عدالت کی اجازت کے مجاز نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز