اعلیٰ سطحی تحقیق اور دنیا بھر کے ماہرین سے رابطہ کر کے جامعہ ملیہ فائدہ اٹھا سکتا ہے: طلعت احمد

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے ڈاکٹر شاہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اپنی اعلی سطحی تحقیق کی وجہ سے دنیا بھر کے ماہرین سے رابطہ کریں اور جامعہ ملیہ ان ان رابطوں کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

Oct 24, 2017 09:47 PM IST | Updated on: Oct 24, 2017 09:47 PM IST

نئی دہلی۔  جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے ڈاکٹر شاہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اپنی اعلی سطحی تحقیق کی وجہ سے دنیا بھر کے ماہرین سے رابطہ کریں اور جامعہ ملیہ ان ان رابطوں کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے گیان کورس کے بارے میں اظہا رخیال کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہ سے بات چیت کرکے ایسے کچھ اور ماہرین کو جامعہ میں گیان کورس کے لئے مدعو کیا جائے گا۔پروفیسر احمد نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں جامعہ کو سب سے زیادہ 32 کورس ملے ہیں۔

واضح رہے کو ملک میں تعلیم اور تحقیق کی سطح کو معیاری بنانے کے لئے قائم حکومت ہند کے پروگرام گیان گلوبل انی شی ایٹیو اآف اکیڈمک نیٹورک کے تحت جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ملک کی یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ 32 کورس ملے ہیں۔جامعہ میں گیان پروگرام کے تحت آج 22 واں کورس شروع ہوا جس میں جامعہ سمیت ملک بھر کے مختلف یونیورسٹیوں کے 70 طلباء حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کورس کینسر جیسی مہلک بیماری پر قابو پانے کے لئے بین الاقوامی سطح کے شہرت یافتہ کینیڈا کے کینسر ماہر ڈاکٹر گریش شاہ کی قیادت میں ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر گریش کی قیادت میں کینیڈا کے مشہور لوال یونیورسٹی میں کینسر کے علاج پر بڑے پیمانے پر تحقیق ہو رہی ہے۔ اس کے تحت، ڈی این اے کے ذریعے کینسر کو کنٹرول کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اعلیٰ سطحی تحقیق اور دنیا بھر کے ماہرین سے رابطہ کر کے جامعہ ملیہ فائدہ اٹھا سکتا ہے: طلعت احمد

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد: فائل فوٹو۔

انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے تحت چل رہے گیان کورس میں ملکی و بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی قیادت میں مختلف اداروں میں کسی خاص موضوع پر 10 روزہ کورس چلائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ کی قیادت میں ہونے والی اس کورس کا موضوع ہے:’ کینسر تھراپی تھرو ٹارگیٹنگ میمالین ڈی این اے ریپئز پاتھ ویز‘ہے۔ کورس کے افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر شاہ نے کہا کہ اس تھراپی کے تحت ان کا پہلا ہدف یہ ہے کہ کینسر کے مریضوں کی قبل از وقت موت کو روکا جا سکے اور وہ اپنی زندگی اسی طرح جی سکیں جیسے ذیابیطس کے مریض جیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذیابیطس بھی ابھی لاعلاج مرض ہے لیکن اب اس کا علاج دستیاب ہو چکا ہے کہ بیماری ختم نہیں ہونے کے باوجود مریض ادویات اور پرہیز کے ذریعہ اپنے معمول کی زندگی جی سکتا ہے اور موت سے بچا رہتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز