jamia student umayya khan wearing hijab was refused to take ugc net exam and mukhtar abbas naqvi amazing statements on this issue– News18 Urdu

امیہ خان حجاب معاملہ: امتحان انتظامیہ کے ضوابط ہوتے ہیں، اس پر کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہئے: مختارعباس نقوی

مرکزی وزیرنے کارروائی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ دیکھتے ہیں کیا ہے، مجھے نہیں معلوم ہے، اگرکچھ ہے توایچ آرڈی منسٹری اسے دیکھے گی۔

Dec 23, 2018 10:12 PM IST | Updated on: Dec 24, 2018 05:54 PM IST

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایم بی اے کی طالبہ امیہ خان کو حجاب کی وجہ سے یوجی سی نیٹ کا امتحان نہ دیئے جانے کے معاملے پر مرکزی وزیربرائے اقلیتی امورمختار عباس نقوی نے ایسا بیان دے دیا ہے، جس سے آپ حیران رہ جائیں گے۔ دراصل ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جب نیوز 18 اردو کے نامہ نگار محی الدین نے امیہ خان کو حجاب کی وجہ سے یوجی سی نیٹ  کا امتحان نہ دیئے جانے سے متعلق سوال کیا تو مرکزی وزیر نے جواب میں کہا کہ تعلیمی اداروں کے اپنے قوانین ہوتے ہیں اورامتحان انتظامیہ نے انہی قوانین کے تحت یہ قدم اٹھایا ہوگا۔

مختارعباس نقوی نے کہا کہ امتحان انتظامیہ نے اپنے سسٹم  کے تحت اگر ایسا کیا ہے تواس پرکسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا اس میں کیا ہے، مجھے نہیں معلوم، لیکن اگرانہوں نے اپنے سسٹم کے تحت کیا ہے، تو اس پرکسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ حالانکہ جب مختار عباس نقوی سے جب مذہبی آزادی کے بابت کارروائی کیے جانے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے نے کہا کہ دیکھتے ہیں کیا ہے، مجھے نہیں معلوم ہے، ایچ آرڈی اسے دیکھے گی۔

Loading...

واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایم بی اے کی ایک طالبہ امیہ خان کو 20 دسمبر 2018 کو ہوئے یو جی سی کے امتحان میں حجاب پہننے کی وجہ سے نہیں شامل ہونے دیا گیا تھا، اس کے بعد جب یہ معاملہ سامنے آیا تو ہر طرف اس عمل کی تنقید کی جارہی ہے. ساتھ ہی میڈیا میں بھی اس خبر کو جگہ ملی ہے۔ متاثرہ طالبہ امیہ خان کا کہنا ہے کہ میں امتحان مرکز میں  موجود  لوگوں کو سمجھاتی رہی کہ پوری طرح سے میری چیکنگ کرلی جائے ، اس کے بعد مجھے اپنا سرڈھک کر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ بال. دکھانا ہمارے مذہب میں درست نہیں ہے. امیہ خان نے اپنی مذہبی آزادی کا بھی حوالہ دیا  لیکن اس کے باوجود انتظامیہ نے اس کی کچھ نہیں سنی۔ آخرکار یہ طالبہ امتحان دینے سے محروم رہی. امیہ خان نے اس پورے معاملے پر قومی اقلیتی کمیشن کو بھی خط لکھا ہے۔

قابل ذکرہے کہ ہندوستانی آئین کے مطابق ہرکسی کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ تاہم یہاں اسے نظرانداز کردیا گیا۔ ساتھ ہی یوجی سی کی گائڈ لائن میں بھی حجاب نہ پہننے کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے. اس سلسلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر امیرالحسن انصاری کا کہنا ہے کہ امیہ خان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، وہ تعلیم کے حق کی خلاف ورزی تھی، جمہوریت میں ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ جہاں تک حجاب کا سوال ہے ، تو اس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ ہمارے ملک میں سبھی کو پورے حقوق حاصل ہیں۔

Loading...