مولانا عبدالحنان فیضی کی رحلت ایک عظیم علمی خسارہ: شیخ صلاح الدین مقبول احمد مدنی

Feb 04, 2017 08:39 PM IST | Updated on: Feb 04, 2017 08:39 PM IST

نئی دہلی۔  ’’ علمی و دینی حلقوں میں یہ خبر بڑے افسوس کے ساتھ سنی گئی کہ گزشتہ رات تین فروری ۲۰۱۷ء؁ کو عالم باعمل استاذ الاساتذہ مولانا عبدالحنان فیضی رحمہ اللہ (۱۹۳۵ء۔۲۰۱۷ء) طویل علالت کے بعد ۸۵؍سال کی عمر میں علم و عمل، دعوت و تبلیغ اور تدریس و افتاء سے بھرپور زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔  مولانا رحمہ اللہ علاقے کے مشہور بزرگ عالم و مدرس مولانا محمد زماں رحمانی رحمہ اللہ (انتری بازار، سدھارتھ نگر، یوپی) کے اکلوتے صاحبزادے تھے۔ مولانا رحمہ اللہ کی فراغت اپنے زمانہ کے معروف سلفی درسگاہ فیض عام مئو سے ہوئی۔ مختلف مدارس میں تدریس کا فریضہ انجام دیا جن میں مددرسہ سعیدیہ دارنگر بنارس، جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر اور جامعہ سلفیہ بنارس قابل ذکر ہیں، اخیر عمر تک جامعہ سراج العلوم  جھنڈا نگر کے شیخ الحدیث و مفتی رہے۔ مولانا نے اپنی پوری زندگی تدریس و افتاء اور دعوت و تبلیغ کے ذریعے کتاب و سنت کی نشر و اشاعت میں گزاری جس میں وہ پورے طور پر کامیاب تھے۔ وہ نہایت نیک دل، سادہ لوح، خلیق اور بے ضرر انسان تھے۔ ان کا وجود ہم طلبہ کے لیے بہت مغتنم تھا۔ اللہ مغفرت فرمائے‘‘ ۔ ان خیالات کا اظہار ’’جمعیت اہل حدیث ہند‘‘ (دہلی) کے صدر شیخ صلاح الدین مقبول احمد مدنی نے فرمایا۔ صدر جمعیت خود مولانا کے تلامذہ اور مستفدین میں سے ہیں۔

            مولانا کے پسماندگان میں ان کے لائق اکلوتے فرزند مولانا عبدالمنان سلفی جھنڈا نگری ہیں جو عمدہ قلم کار، بہترین خطیب اور کامیاب مدرس ہیں۔ موصوف جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر میں استاذ اور ماہنامہ ’’السراج‘‘ کے مدیر ہیں، اللہ انھیں مولانا کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔آمین ۔ صدر جمعیت نے کہا کہ مولانا کا انتقال جماعت کے لیے ایک عظیم علمی خسارہ ہے، جس کی تلافی بظاہر بہت مشکل نظر آتی ہے۔ صدر جمعیت و دیگر اراکین و ممبران دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام سے نوازے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق دے۔آمین۔

مولانا عبدالحنان فیضی کی رحلت ایک عظیم علمی خسارہ: شیخ صلاح الدین مقبول احمد مدنی

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز