جمعیت علما آسام مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سر گرم عمل ، شہریت کے معاملہ پر وزیر اعلی سے کی ملاقات

مولانا بدر الدین اجمل قاسمی کی سربراہی میں جمعیۃ علما صوبہ آسام کے ایک وفد نے آسام کے وزیر اعلی سے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرکے آسام کے مسلمانوں کو در پیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا

Apr 14, 2017 04:40 PM IST | Updated on: Apr 14, 2017 04:40 PM IST

نئی دہلی: جمعیت علمائے ہند کی آسام یونٹ کے صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل قاسمی کی سربراہی میں جمعیۃ علما صوبہ آسام کے ایک وفد نے آسام کے وزیر اعلی سے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرکے آسام کے مسلمانوں کو در پیش مسائل بالخصوص قومی رجسٹر برائے شہریت (این آر سی) میں ان کا نام اندراج ہونے میں پیش آنے والی دشواری ،اسی طرح گزشتہ چند ماہ کے دوران عموما صرف مسلمانوں کو نشانہ بناکر ان کے علاقوں میں اجاڑنے کی مہم(اکوکشن ڈرائیو) چلائے جانے پر تبادلہ خیال کیا اور مسلمانوں کے خلاف ہو رہی نا انصافی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

ملاقات کے دوران وفد نے وزیر اعلی سے پر زور انداز میں مطالبہ کیا کہ حکومتِ آسام سپریم کورٹ میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے 28فروری 2017 کو دئیے گئے اس فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کرے جس نے لنکیج سرٹی فیکٹ کے طور پر پنچایت سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ اور بی ڈی او یاسرکل آفیسرکے ذریعہ تصدیق شدہ سرٹیفیکٹ کو قومی رجسٹر برائے شہریت(این آر سی) کے لئے معاون ڈکیومنٹ ماننے سے انکار کر دیا ہے ،جس کی وجہ سے آسام کے 48 لاکھ لوگوں خصوصا عورتوں کا نام قومی رجسٹر برائے شہریت (این آر سی) میں اندراج ہونا دشوار ہو گیا ہے ،جس نے لوگوں بالخصوص متأثرہ عورتوں میں بے چینی پیدا کر دیا ہے۔

جمعیت علما آسام مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سر گرم عمل ، شہریت کے معاملہ پر وزیر اعلی سے کی ملاقات

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حکومتِ آسام اور حکومتِ ہند کو حکم دیا تھاکہ وہ آسام میں قومی رجسٹر برائے شہریت (این آر سی) کو از سرِ نو تیار کر نے کا کام جلد از جلد مکمل کرے۔اس کے بعد سپریم کورٹ کی ہدایت پر حکومت آسام نے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی جس کو این آر سی میں اندراج کے لئے قابلِ قبول دستاویز کی فہرست تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے تمام سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں اور متعلقہ گروپوں سے مشورہ کے بعد دستاویز کی جو فہرست تیار کی ان میں سے 12 کو تو اصل کی حیثیت والا قرار دیا گیا جبکہ 3 کو معاون دستاویز کی حیثیت دی گئی۔ان معاون دستاویز میں سے ایک گاؤں پنچایت کے ذریعہ جاری شدہ اور بی ۔ڈی ۔او یا پھر سرکل آفیسر کے ذریعہ تصدیق شدہ وہ سرٹیفیکٹ ہے جو عورتوں کے شادی کے بعد اپنے ماں باپ کے گھر سے شوہر کے گھر منتقل ہونے کو ثابت کرنے کے لئے ہے اور جسے لنکیج سرٹی فیکیٹ کہا جاتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز