جمعیت علماء ہند کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف اقوام متحدہ کو میمورنڈم

Sep 15, 2017 09:44 PM IST | Updated on: Sep 15, 2017 09:44 PM IST

پرتاپ گڑھ: جمعیۃ علماء (محمود مدنی) کی جانب سے ضلع صدر مفتی جمیل الرحمٰن قاسمی کی قیادت میں ایک وفد نے جمعہ کو ضلع مجسٹریٹ کی توسط سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف اقوام متحدہ ،میانمار سفارت خانہ اور وزیر داخلہ حکومت ہند کو منسوب پانچ نکاتی میمورنڈم سونپا ۔ میمورنڈم میں جمعیتہ علماء ہند نے روہنگیا مسلمانوں کا قتلِ عام بند روکنے اور اِس کی بین الاقوامی سطح پر جانچ کراکر ظالموں کو کیفر کردار تک پہونچائے جانے ، فلاحی تنظیموں اور میڈیا کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت دینے و جو مظلومین کیمپوں میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ان کو حکومت ہند کی جانب سے راحت کاری انسانیت کی بنیاد پر کیئے جانے، وزیر داخلہ حکومت ہند ، اقوام متحدہ اور میانمار سفارت خانہ سے حقوق انسانی کی پامالی نسل کشی روکنے کیے لئے برما حکومت پر دباوُ ڈالنے کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں کی شہریت کو تسلیم کرے۔ منسوخ شہریت کو بحال کرنے اور مظلوم روہنگیا مسلمانوں کو پناہ گزین کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

میمورنڈم دینے کے بعد ضلع صدر مفتی جمیل الرحمٰن قاسمی نے میانمار حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے کو بودھ مذہب کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کا کیا یہی مذہب ہے کہ وہ بہیمانہ طریقے سے قتل کریں جبکہ بدھ نے تو امن کا پیغام دیا ہے ۔انہوں نے مظلومین کیلئے دعا کرتے ہوئے عالمی برادری سے انسانی بنیاد پر مظلومین کے تعاون کی اپیل کی۔

جمعیت علماء ہند کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف اقوام متحدہ کو میمورنڈم

فائل فوٹو

وفد میں مولانا محمد فاروق قاسمی ، مولانا اسرار احمد قاسمی ، مولانا فخر الزماں قاسمی، مولانا محمد اسلام قاسمی ، مولانا جاویداختر قاسمی ،حافظ محمد نسیم، مومن کانفرنس کے سابق قومی صدر ڈاکٹر عبدالرشید انصاری ، سماجی کارکن حمایت اللہ بنے بھائی، محمد اسحاق ایڈوکیٹ ، محمد رفیق ایڈوکیٹ محمد ابرار ایڈوکیٹ اور حاجی ماسٹر محمد عمر ڈروا وغیرہ موجود رہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز