تین طلاق : جمعیۃ علما ہند نے پیش کیا اپنا موقف ، کہا : طلاق ثلاثہ کا قرآن میں ذکر نہیں ، لیکن احادیث سے ثابت

May 17, 2017 06:54 PM IST | Updated on: May 17, 2017 06:54 PM IST

ممبئی: طلاق ثلاثہ اور حلالہ پر سپریم کورٹ میں جاری بحث میں آج جمعیۃ علما ہندء کی جانب کہا گیا کہ طلاق ثلاثہ کا گرچہ قرآن میں کہیں کوئی ذکر نہیں لیکن لیکن احادیث سے اس کا وجود ثابت ہے جس پر عمل کرنا ہر مسلمان کیلئےضروری ہے۔ جمعیۃ کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجو رام چندرن نے بحث کی اور پانچ رکنی بینچ کو بتایا کہ حنفی مسلک کے مطابق ایک بار میں دی گئی تین طلاق قابل عمل ہے اور اسے تین طلاق مانا جاتا ہے اگرچہ اسے علماء نے معیوب قراردیا ہے اور علماء اور دانشور ہمیشہ اس عمل سے بچنے کی تلقین کرتے آئے ہیں ۔

یہ بتاتے ہوئے کہ ہندوستان میں حنفی مسلک کے ماننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے انہوں نے کہا کہ بہر حال یہ ایک قانونی پالیسی ہے جسے عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر تسلیم کیا جانا چاہئے ،کیونکہ اس سے قبل کئی عدالتیں اس پر نظر ثانی کر چکی ہیں اورمسلم پرسنل لاء آئین ہند سے مختلف ہے ۔ ایڈوکیٹ راجو رام چندرن نے عدالت کو قرآن کریم ، کئی مستند احادیث اور متعدد فقہی جزئیات کا حوالہ دیتے ہوئے طلاق ثلاثہ کو جائز قرار دیا اور کہا کہ یہ کہنا درست ہیکہ قرآن شریف میں طلاق ثلاثہ کے مطابق کچھ لکھا نہیں ہے لیکن مستند احادیث سے یہ ثابت ہے کہ طلاق ثلاثہ کا وجود ہے اور احادیث سے اس کا ثبوت ہے جس پر عمل کرنا ہر مسلمان کوضروری ہے۔

تین طلاق : جمعیۃ علما ہند نے پیش کیا اپنا موقف ، کہا : طلاق ثلاثہ کا قرآن میں ذکر نہیں ، لیکن احادیث سے ثابت

چیف جسٹس آف انڈیا جگدیش سنگھ کہر کی سربراہی والی پانچ رکنی بینچ کو ایڈوکیٹ راجو رام چندر نے یہ بھی بتایا کہ ’’ریفارم‘‘ کے نام پر شریعت میں ترمیم نہیں کی جاسکتی اورطلاق ثلاثہ کی مخالفت کرنے والوں نے عدالت میں ایسا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ یہ عمل غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے بلکہ انہوں نے بس مسلم خواتین پر ظلم ہورہا ہے کا ہوا کھڑا کیا ہے ۔ ایڈوکیٹ راجو رام چندرن نے عدالت کو بتایا کہ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کے اس دلیل سے اتفاق کرتے ہیں کہ 14 سو سالوں سے زائد عرصہ جاری اس پریکٹس کو یوں ہی ختم نہیں کیا جاسکتا ۔

جمعیتہ کی طرف سے جاری ریلیز کے مطابق ایڈوکیٹ راجو رام چندرن نے یہ بھی کہا کہ عدالت کا کام یہ دیکھنا ہے کہ مذہب کے نام پر کسی کے ساتھ زیادتی تو نہیں کی جارہی ہے نا کہ کسی مخصوص مذہبی عقائد پر پابندی عائد کرنا ۔بصورت دیگر ہندوستان میں بسنے والی دیگر قوموں کی ایسی مذہبی رسومات کو ختم کرنا ہوگا جس سے کسی نہ کسی کی دل آزاری ہوتی ہو ۔ دوران بحث ایڈوکیٹ راجو رام چندرن نے ہائی کورٹ کے مختلف حکم ناموں کے ساتھ پڑوسی ملک پاکستان سپریم کورٹ کے طلاق ثلاثہ پر دیئے گئے فیصلوں کی نقول کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے رائٹروں کے آرٹیکلس بھی پیش کیے جن میں طلاق ثلاثہ کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ انٹرنیشنل کنوینشن میں ہندوستان نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کسی بھی کمیونٹی کی مرضی کے بغیر خواتین اور دیگر لوگوں کے حق میں فیصلہ نہیں کیا جائے لہذا اس معاملے میں ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں حنفی مسلک کے ماننے والوں کا یہ یقین ہے کہ ایک مرتبہ میں دی گئی تین طلاق تین طلاق ہوجاتی ہے اور اس کے بعد اس میں کوئی گنجائش نہیں بچتی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز