آسام کے لاکھوں لوگوں کی شہریت کا معاملہ : جمعیۃ علما ہند لاکھوں افراد کو انصاف دلانے کیلئے کوشاں

Jul 14, 2017 08:39 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 08:39 PM IST

نئی دہلی: آسام کے لاکھوں لوگوں کی شہریت سے متعلق مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے گزشتہ کل سپریم کورٹ نے قومی رجسٹر برائے شہریت (این آرسی) کو اس سال کے اختتام تک مکمل کرنے کا حکم جاری کیا ہے، اس کے ساتھ ہی سرحد پر فینسینگ کا بھی حکم دیا ہے نیز آسام کے وزیر اعلی کی بے جا بیان بازی پر سر زنش بھی کی ہے۔ واضح رہے کہ آسام میں این آرسی کی تیاری کا کام گزشتہ تین سالوں سے سپریم کورٹ کی نگرانی میں چل رہاہے اور امید ہے کہ این آر سی کی تیاری کے ساتھ ہی ان لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑیگا جو آسام کے لاکھوں لوگوں کو غیر ملکی قرارد دینے میں ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے ہیں، مگر اس درمیان 28 فروری 2017 کو گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ کے ذریعہ این آر سی میں نام اندراج کے لئے پنچائت سرٹیفیکٹ کو غلط قرار دے دیا جس سے آسام کے تقریبا 48 لاکھ لوگوں کی شہریت پر تلوار لٹک گئی ہے، ان میں مسلمان کے ساتھ ساتھ دوسری قوم کے لوگ بھی شامل ہیں۔

حالات کی نزاکت کے پیش نظرجمعیۃ علماء ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا سید محمود مدنی اورجمعیۃ علماء ہند صوبہ آسام کے صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کی زیر نگرانی سینئر وکلاء کی ٹیم نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس پر سماعت جاری ہے ۔ کل کی سماعت پر اپنا رد عمل جاری کرتے ہوئے مولانا سید محمود مدنی اور مولاناجمل نے کہا کہ ہم عدالت کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر پریشانی یہ ہے کہ آگ 48 لاکھ لوگوں سے متعلق مسئلہ کا حل این آر سی کی تیاری کی تاریخ سے پہلے نہیں ہوا تو ان لوگوں کے لئے انتہائی سنگین حالات پیدا ہو جائیں گے۔ مولانا اجمل نے عدالت کے اس رخ کا بھی خیر مقدم کیا کہ این آر سی کی تیاری میں کوئی بھی مداخلت نہیں کر سکتا خواہ وہ حکومت ہی کیوں نہ ہو۔

آسام کے لاکھوں لوگوں کی شہریت کا معاملہ : جمعیۃ علما ہند لاکھوں افراد کو انصاف دلانے کیلئے کوشاں

مولانا سید محمود مدنی اور مولانا بدرالدین اجمل کی زیر نگرانی جن وکلا ء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ان میں معروف وکیل ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی، جسٹس سینئر وکیل اور بمبئی ہارئی کورٹ کے سابق چیف جسٹس بی ایچ مالاپلے ، اڈووکیٹ اعجاز مقبول، اڈووکیٹ شکیل احمد،اڈووکیٹ نذرالحق مزاربھیا، اڈووکیٹ عبدالصبور تپادر وغیرہ شامل ہیں جبکہ سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے آئندہ ہونے والی سماعتوں میں جمعیۃ کی طرف سے پیش ہونے کی حامی بھری ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز