بھگوان رام ، کرشن یا کسی اور مذہب کے خلاف بولنا یا انگلیاں اٹھانا اسلامی تعلیمات کے منافی : مولانا یحیی کریمی

Oct 27, 2017 04:22 PM IST | Updated on: Oct 27, 2017 04:22 PM IST

نئی دہلی : جمعیت علما ہند ہریانہ ، پنجاب اور ہماچل پردیش یونٹ کے صدر مولانا یحیی کریمی کا کہنا ہے کہ اسلام میں دیگر مذاہب سے متعلق غلط باتیں کہنا منع ہے اور ان پر سوال اٹھانا بھی صحیح نہیں ہے ، اس لئے ہندوستانی مسلمانوں کو بھگوان رام اور بھگوان کرشن کے خلاف بیان بازی نہیں کرنی چاہئے اور ایسی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے ۔ مولانا کے اس بیان کی برادران وطن کے ذریعہ جم کر پذیرائی کی جارہی ہے۔

مولانا کریمی نے میوات میں ایک پروگرام کے دوران سبھی لوگوں سے بھگوان رام اور بھگوان کرشن کی عزت کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ 1.24 لاکھ پیغمبر زمیں پر آئے ہیں ۔ مذہب اسلام کہتا ہے کہ کہ رام جی یا کرشن جی یا اور کسی مذہب کے ماننے والے افراد ہوسکتا ہے کہ 572 عیسوی سے پہلے اپنے وقت کے نبی ہوں ، اسلام مذہب یہ کہتا ہے کہ خبردار رام کے خلاف زبان کھولی تو ، خبردار کسی مذہبی رہنما کے خلاف زبان کھولی تو۔

بھگوان رام ، کرشن یا کسی اور مذہب کے خلاف بولنا یا انگلیاں اٹھانا اسلامی تعلیمات کے منافی : مولانا یحیی کریمی

جمعیت علما ہند ہریانہ ، پنجاب اور ہماچل پردیش یونٹ کے صدر مولانا یحیی کریمی

مولانا نے مزید کہا کہ وہ لوگ قوم کے غنڈے اور غدار ہیں جو دیگر مذاہب کے لوگوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مذہب کو ذہن میں رکھے بغیر اگر رام کے بتائے راستے پر چلنا ہے تو سبھی لوگوں کو مل کر ایک ساتھ ظلم کے خلاف آواز اٹھانی اور لڑائی لڑنی پڑے گی ۔ ظالم کو مذہب سے نہ جوڑ کر صرف اسے گنہگار کے طور پر دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔

مولانا نے مزید کہا کہ ہم سب کو محبت اور پیار کا برتاو کرنا چاہئے ، مذہب کسی کا سر کاٹنے کی کیسے اجازت دے سکتا ہے ، اس لئے ہمارا مذہب اسلام ہو ، سناتن دھرم ہو یا کوئی مذہب ، وہ محبت کا ہی پیغام دیتا ہے۔ نیوز 18 سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جب ہم کسی کو غلط کہیں گے تو وہ ہمارے مذہب کے خلاف ایسے ہی بولے گا ، اس لئے کسی کو بھی دوسرے مذہب پر انگلی نہیں اٹھانی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز