بابری مسجد مقدمہ: جارحانہ بیان بازی کرنے والوں کا عدالت ازخود نوٹس لے: سید ارشد مدنی

Mar 12, 2018 06:07 PM IST | Updated on: Mar 12, 2018 06:07 PM IST

نئی دہلی۔ اسی ہفتے بدھ سے بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت ایک بار پھر سپریم کورٹ میں شروع  ہونے کے موقع پر جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ تاریخی حقائق اور موجود دستاویزات کی بنیاد پر ہی بابری مسجد ملکیت تنازعہ میں عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔ صدر جمعیۃ مولانا سید ارشد مدنی نے اس موقع پر تنازعہ کے تعلق سے حالیہ دنوں کی بیان بازیوں پر گہری تشویش ظاہر کرتےہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی جارحانہ بیان بازی درحقیقت اکثریت کے مذہبی جذبات کو اکسانے کے لئے کی جا رہی ہے جس کا فاضل عدالت کو ازخود نوٹس لینا چاہئے اور جو لوگ اس طرح کی بیان بازی کرکے ملک کا ماحول خراب کرنے کی سازشیں کررہے ہیں ان پر قدغن لگایا جانا چاہئے ۔

اس بیچ بابری مسجد ملکیت معاملے کی اہم فریق جمعیۃ علماء ہند نے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں ۔ جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظیر اور جسٹس بھوشن شامل ہیں ۔ جمعیۃ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجو دھون اور ایڈوکیٹ راجو رام چندرن اپنے دلائل پیش کریں گے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل کی سماعت پر چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشراء نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایگزیبیٹس A37 سے A40 اور 1,52/49,53,83,106کے ترجمے کراکر عدالت میں جمع کرائیں ، عدالت کی ہدایت پر ترجمے کرانے کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور معاملے کی سماعت پر اسے عدالت میں پیش کردیا جائے گا ۔

بابری مسجد مقدمہ: جارحانہ بیان بازی کرنے والوں کا عدالت ازخود نوٹس لے: سید ارشد مدنی

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو۔

واضح ہوکہ عدالت نے دوسرے فریق کو بھی حکم دیا تھا کہ سنسکرت اور دیگر زبانوں کی کتابوں کے ترجمے دوسرے فریقین اور عدالت کو دیئے جائیں ۔اگر فریقین کے دستاویزات مکمل ہوچکے ہیں تو اب اس معاملہ پر حتمی بحث شروع ہوسکتی ہے ۔ مولانا سید ارشد مدنی نے اس بیچ کہا ہے کہ کسی کا مبینہ طور پر یہ کہنا کہ مندرنہیں بننے کی صورت میں ہندوستان سیریا [شام] بن جائے گا یا بعض پارٹیوں اور تنظیموں کے ذمہ داران کا زیر عدالت ملکیت کی زمین پر مندربنوانے کی بات کرنا افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ مولانامدنی نے کہا کہ ابھی تو معاملہ پر بحث تک شروع نہیں ہوئی ہے فیصلہ تو بحث اور دوسری قانونی کارروائیوں کے مکمل ہونے کے بعد ہی آئے گا ۔ ایسے میں کسی بھی فیصلہ کن انداز سے کیا عدالت، ملک کے آئین اور قانون کی توہین نہیں ہوتی! انہوں نے کہا کہ’’ ملک کے ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ہمیں عدلیہ پر مکمل یقین واعتماد ہے اور اسی بنیاد پر ہم ابتدا سے کہتے آئے ہیں کہ اس معاملہ میں عدالت کا جوبھی فیصلہ آئے گا وہ قابل قبول ہوگا ‘‘۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند نے صدر جمعیۃعلماء مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر 30؍ ستمبر2010ء؍ کے الہ آباد ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کے خلاف سب سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس میں عدالت نے ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ خیال رہے کہ سابقہ صدی کے وسط میں حکومت اتر پردیش کی طرف سے بابری مسجد کو دفعہ 145 کے تحت اپنے قبضہ میں لے لئے جانے کے خلاف اس وقت جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیرالدین فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نے فیض آباد کی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کا تصفیہ 30؍ ستمبر 2010ء؍ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دیا گیا تھا ۔متذکرہ فیصلے کے خلاف جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر بدھ کو سماعت عمل میں آئے گی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز