ملک بھر میں اشتعال انگیزی اور رد عمل کی سیاست پر مولانا محمود مدنی کی سخت تنقید

Oct 28, 2017 05:42 PM IST | Updated on: Oct 28, 2017 07:39 PM IST

نئی دہلی۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ملک بھر میں اشتعال انگیزی اور رد عمل کی سیاست پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایک سازش کے تحت ملک کی فضاء کو مکدرکرنے کی کوشش جارہی ہے، تا کہ عوام کی توجہ بنیادی اور ضروری مسائل سے ہٹایا جائے۔ یہ بات انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی مجلس منتظمہ کے اہم اجلا س میں کہی۔ اس موقع پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ملک بھر میں اشتعال انگیزی اور رد عمل کی سیاست پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایک سازش کے تحت ملک کی فضاء کو مکدرکرنے کی کوشش جارہی ہے، تا کہ عوام کی توجہ بنیادی اور ضروری مسائل سے ہٹا دی جائے ، عوام کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں اور انھیں غیر ضروری باتوں کے فریب میں الجھایا جارہا ہے ۔مولانا مدنی نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ ملک میں خوف کی سیاست نہیں چلنے دیں گے ، نہ ہم کسی سے ڈرنے والے ہیں اور نہ کسی کے ڈرانے سے ڈرنے والے ہیں۔ مولانا مدنی نے رد عمل کی سیاست کو بھی سخت نقصان دہ قراردیا او رکہا کہ جس لب ولہجہ میں فرقہ پرست عناصر بات کرتے ہیں،اسی لب و لہجہ میں کچھ لوگ مسلمانوں کی طرف سے جواب دیتے ہیں ، میں یہ کہتاہوں کہ یہ لوگ درحقیقت مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں ، وہ دانستہ یا نادانستہ طور سے غیروں کے بچھائے ہوئے جال میں خود بھی پھنستے ہیں اورپورے ملک کو پھنساتے ہیں۔ انھو ں نے کہا کہ میں ملک عام لوگوں سے اپیل کرتا ہو ں کہ وہ کھرے کھوٹے اور دوست ودشمن کی پہچان کرکے اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کی کوشش کریں ،ہمیں دشمنوں کے فریب اور اپنوں کی نادانی دونوں سے بچنا ہو گا ۔

مولانا مدنی نے اس بات پر زوردیا کہ حکومتوں کے بدلنے سے حالات نہیں بدلتے، بلکہ خود کے بدلنے سے حالات بدلتے ہیں ، مسلمان اگر اللہ اور اس کے رسولؐ کا دامن تھام لے تو کوئی آئے کوئی جائے مسلمان کا ایک بال بھی بیکا نہیں ہو گا ۔انھوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں مسلمان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ، لیکن بڑا چیلنج تو اسلا م کے سامنے ہے اور وہ کسی باہری طاقت سے نہیں بلکہ خود ہمارے اعمال و کردار سے ہے ۔ ہمیں اپنے اندر کی اصلاح کرنی چاہیے ، اگر ہم بدل گئے تو ہم بھی محفوظ ہو ں گے اور اسلام کی بھی حفاظت کرنے کی طاقت حاصل ہو گی۔ مولانا مدنی نے دینی تعلیم کے فروغ اور معاشرتی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قابل تشویش امر ہے کہ بہت سارے مسلمان کلمہ تک نہیں جانتے ، کم ازکم چار کروڑ مسلمان اس وقت کفرو ارتداد کے دہانے پر کھڑے ہیں، ہمیں ان کو بچانے کے لیے آگے آنا ہوگا ۔ دریں اثنا مجلس منتظمہ کے اجلاس میں ملک و ملت سے متعلق کئی اہم فیصلے لیے گئے ، ملک کے موجود ہ حالات اور مسلمانوں کی سیاسی ، سماجی اور تعلیمی زبوں حالی کے ازالے سے متعلق لائحہ عمل بھی طے کیا گیا ، فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام سے متعلق ایک تجویز میں موثر قانون بنانے پر زورد یتے ہوئے اس امر پر گہری تشویش ظاہر کی گئی کہ جمعےۃ علماء ہند او رملک کے امن پسند عوام کے بارہا مطالبہ کے باجود انسداد فرقہ وارانہ فساد قانون بنانے کی سمت میں کسی بھی مرکزی سرکار نے کوئی پیش رفت نہیں کی ہے اور مختلف بہانوں اور خطرات کا بہانہ بنا کراس قانون کے مسودہ کو نافذ کرنے سے گریز کرتی رہی ہے۔

ملک بھر میں اشتعال انگیزی اور رد عمل کی سیاست پر مولانا محمود مدنی کی سخت تنقید

دہشت گردی کے الزام میں بے قصور افراد کی گرفتاری کے تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جن اہل کاروں نے جھوٹے مقدمے قائم کئے اوران کی بنیاد پر ان کو ترقیاں دی گئیں یا اعزازات دئے گئے وہ سب واپس لئے جائیں اوران کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے،جن افراد کو برسوں جیل میں رکھا گیا اوران کا کوئی قصورثابت نہیں ہوا، حکومت ان کی بازآبادکاری کی ذمہ داری لے۔ قومی یکجہتی کے فروغ اور فرقہ پرستی کی روک تھام کے طریقوں سے متعلق تجویزمیں اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا کہ چند فی صد افراد فرقہ وارنہ منافرت پیدا کرکے اپنے سیاسی اورنظریاتی اہداف کو حاصل کرنے کیلئے منظم طریقے سے سرگرم ہیں۔تجویز میں میڈیا کو متوجہ کیا گیا کہ وہ گمراہ کن نظریات اورخیالات سے عوام کو باخبرکرنے کی اپنی قومی ذمہ داری پر توجہ مرکوز کریں اور تعصب سے اوپر اٹھ کر صرف امن عامہ، پرسکون ماحول ،فرقہ ورانہ اورنظریاتی رواداری اوریک جہتی کے فروغ کے لئے خود کو وقف کریں۔ساتھ ہی ایک دوسری تجویز میں جمعیۃعلماء ہند نے تمام مسالک کے پیروکاروں سے اپیل کی ہے کہ اپنے اپنے مسلک پرقائم رہتے ہوئے باہم اشتراک اورمعاونت کے مواقع کو مسلکی تعصبات کی بھینٹ نہ چڑھ جانے دیں،بلکہ افہام و تفہیم کی فضا قائم کریں۔

مسلم اوقاف سے متعلق ایک اہم تجویز میں موقوفہ جائیدادوں کی زبوں حالی پر فکر مندی کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ تمام وقف بورڈ کے دفاتر میں فل ٹائم سی او مقرر کیا جائے اور ISاور IPSکے طرز پر انڈین اوقاف سروسز کا خصوصی کیڈر بنایا جائے ۔یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اوقاف کے سلسلے میں ایک بااختیار مرکزی وزارت تشکیل دی جائے جس کا منسٹر بھی مسلمان ہو ، نیز اوقاف سے متعلق سچر کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے ۔ اس کے علاوہ کانپور شہرمیں کپڑا ملوں اور ٹینریوں کے مسائل ، دلت اور مسلم اتحاد سے متعلق لائحہ عمل ،مسلم اوقاف ،اسکول کے بچوں پر مخصوص مذہبی رسومات لازم کرنے کے رویے ، روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کے مسائل او ران کی راحت رسانی کی تدابیر ، عالم اسلام کے مسائل ،دین وایمان کے تحفظ اور اسلام کے سلسلے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے اور مؤثر دعوتی حکمت عملی اور امارت شرعیہ کے استحکام اورتربیتی کیمپ کے انعقاد کی ضرورت جیسے مسائل پر مجلس دستور کے مبطابق مجلس عاملہ کی منظور کردہ تجاویز مجلس منتظمہ نے اپنی مہر ثبت کی ۔واضح ہوکہ جمعیۃ علماء کی مجلس عاملہ کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا اور 18گھنٹے کے طویل مباحثے کے بعد یہ تجاویز منظور کی گئیں ۔اس سے قبل جمعہ کی دیر رات تک جمعےۃ علما ء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلا س جاری رہا۔

گزشتہ ایک سال کے دوران کئی اہم شخصیات کے سانحہ ارتحال سے متعلق ایک تجویز پیش ہوئی ،بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کے نائبین صدر مولانا ریاست علی بجنوری اور مولانا ازہر رانچی کے سانحہ ارتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا اور ان کی جگہ مفتی خیر الاسلام مفتی اعظم آسام اور مولانا امان اللہ مہتمم مدرسہ حسینیہ کو کن متفقہ طور سے نائب صدر منتخب ہوئے۔اس موقع پر مولانا ریاست علی بجنوریؒ کی حیات وخدمات اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ کے خصوصی نمبر کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی۔ آج صبح ساڑھے آٹھ بجے صدر جمعیۃ علماء ہند کے ہاتھوں پرچم کشائی سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ تحریک صدارت مولانا متین الحق اسامہ کانپوری نے پیش کی ، جب کہ سالانہ گوشوارہ آمد وصرف مولانا حسیب صدیقی خازن جمعیۃ علماء ہند اور سابقہ کارروائی کی خواندگی مولانا عبدالمعید قاسمی ناظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند نے کی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز