امیٹھی میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد کے قتل پر جمعیتہ علما ہند کو سازش ہونے کا اندیشہ

Jan 07, 2017 09:13 PM IST | Updated on: Jan 07, 2017 09:16 PM IST

نئی دہلی۔ جمعیتہ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے امیٹھی اترپردیش کے ایک گاؤں مہونا میں ایک ہی خاندان کے افراد کے اجتماعی قتل کے واقعے کو وحشت ناک اور المناک بتایا ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ایک سال قبل مہاراشٹر کے تھانے میں اور اب یوپی میں اس طرح کے حادثات نے سماج کے اجتماعی شعور کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور ہماری معاشرتی ذمہ داریوں کو متوجہ کیا ہے ، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ مولانا مدنی نے زوردیا کہ ہمیں معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہو گا، نیز ایسے واقعات کے پیش آمدات کو روکنے کے لیے سماج کے ہر فرد کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔

مہونا میں رونما ہونے والے سانحہ کا جائزہ لینے کے لیے مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیتہ علماء سلطان پور کا وفد۶؍جنوری ۲۰۱۷ء کو جائے واردات پر پہنچا۔ مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب سکریٹری جمعیتہ علماء ہند نے فون پر وفد سے اپنی گفتگو میں تاکید کی کہ  اسے محض خودکشی کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، کیوں کہ یہ واقعہ سماج و قوم کے تئیں اپنی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ چنانچہ اسی جذبے کے تحت یہ وفد امیٹھی کے لیے روانہ ہوا۔ وفد کی قیادت ضلع صدر مولانامطہر الاسلام قاسمی نے کی ، وفد میں سلطان پور ضلع جمعیتہ کے ناظم مولانا عبداللہ قاسمی، صحافی عادلِ صدیقی اور حاجی رمضان شامل تھے۔وفد نے مقتول جمال الدین کے گھر جاکر بھی جائزہ لیا ، جہاں جمال الدین سمیت گھر کے چھوی بڑی دس خواتین کا قتل ہو ا تھا ۔وفد نے ایس ایچ او شکل بازار تھانہ حمید سے ملاقات کی ، پولس کے بیان کے مطابق جما ل الدین غربت سے تنگ تھا ، اس نے پوری تیار ی کرکے گھر کی خواتین کو ایک دوا پینے کے لیے کہا اور ترک یہ دیا کہ اس کے پینے سے شوگر وغیرہ نہیں ہوگا ، اس نے دو چھوٹے لڑکوں کو دوا نہیں پلائی او رکہا کہ یہ صرف خواتین کے لیے ہے ۔اس نے اپنی اہلیہ ، چار بیٹیوں، بھائی کی بیوہ ، اس کی تین بیٹیوں، اور ایک بھائی جو گم ہو گیا ہے ، اس کی بیوی ، دو بیٹیوں کل بارہ خواتین کو دوا اپنے ہاتھوں سے پلائی ۔ بے ہوش ہو جانے کے بعد سب کو دھار دار ہتھیار سے قتل کیا ، صر ف جمال الدین کی بیوی ، اور اس کی شادی شدہ لڑکی کا قتل نہیں ہو سکا ( کیوں کہ وہ روم کو لاک کرکے سوئی تھی)جنھوں نے ہوش میں آنے کے بعد دیکھا کہ جمال الدین کی لاش چھت سے لٹکی ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ بیان جمال الدین کی پچیس سالہ لڑکی نے دیا ہے ۔

امیٹھی میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد کے قتل پر جمعیتہ علما ہند کو سازش ہونے کا اندیشہ

فائل فوٹو

ان سوالات اور دیگر مشاہدات کی روشنی میں جمعیتہ علماء سلطان پورکا وفد اس قتل کے واقعے میں جمال الدین اور اس کے خاندان کے تئیں سازش کے امکانات کو خارج نہیں کرتا ہے ، اس لیے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ پورے معاملے کی سی بی آئی جانچ کرائی جائے تبھی جاکر اس قتل کا معمہ سلجھ سکتا ہے۔نیز جمعیۃ علما ء نہ صرف اس افسوس ناک حادثہ سے آزردہ ہے، بلکہ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے اور ان کو ہر طرح سے تعاون دینے کو تیار ہے ۔جمعیتہ علماء کا یہ وفد ٹی وی چینلوں کے ذریعہ جلد بازی میں غیر ذمہ دارانہ بیان کو متوازن اور صحت مند طریقہ نہیں سمجھتا ہے ، میڈیا کو حادثات بیان کرتے وقت صحیح بات تک پہنچنے اور پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز