جمعیتہ علما ہند کی آسام اور مرکزی حکومت کے ذریعہ شہریت کے لئے سپریم کورٹ میں دائر کردہ حلف نامہ کی تائید

May 06, 2017 08:53 PM IST | Updated on: May 06, 2017 08:53 PM IST

نئی دہلی/ گوہاٹی۔  آسام کے مسلمانوں کے حقو ق کی مسلسل لڑائی لڑنے والی ملک کی قدیم ترین تنظیم جمعیۃ علماء ہند نے آسام اور مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں داخل اپنے حلف نامہ میں آسام میں شہریت کے لئے 25، مارچ 1971کو بنیاد بنا نے کی سفارش کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود اسعد مدنی اور جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل سمیت جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران نے حکومت کے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی لڑائی میں معاون ثابت ہونے والا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا شروع سے ہی انتہائی واضح موقف رہا ہے کہ آسام میں شہریت کے لئے ۲۵ مارچ ۱۹۷۱ کو بنیاد مانا جائے اور اس سے پہلے یہاں آکر بس جانے والوں کو ہندوستانی شہری تسلیم کیا جائے جیسا کہ   1985میں ہوئے آسام اکارڈ میں کہا گیا ہے، اور اس تاریخ کے بعد آنے والوں کو غیر ملکی قراردے کر ان کو ان کے ملکوں میں قانونی اعتبار سے واپس بھیج دیا جائے۔

ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جمعیۃ کا خیال ہے کہ آسام میں کوئی بھی غیر ملکی غیر قانونی طریقہ سے نہ رہنے پائے لیکن اس کے ساتھ ہی کسی حقیقی شہری کو غیر ملکی ہونے کا الزام لگا کر ہر گز پریشان نہ کیا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ کچھ تنظیموں نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کر کے اس بات کی مانگ کی ہے کہ آسام میں شہریت کے لئے 1951کو بنیادی سال مانا جائے اور اس کے بعد آنے والوں کو غیر ملکی قرار دیا جائے جبکہ جمعیۃ علماء ہند نے اس کے خلاف پٹیشن داخل کر کے مطالبہ کیا ہے کہ آسام اکورڈ اور انڈین سیٹیزن شپ ایکٹ - 1955 کے سیکشن 6-A کو بحال رکھتے ہوئے 1971کو بنیادی سال قرار دیکر شہریت کا فیصلہ کیا جائے۔ ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے تمام فریقوں کے ساتھ صوبائی اور مرکزی حکومت سے بھی حلف نامہ داخل کرنے کو کہا تھا، جس پر عمل کرتے ہوئے تمام فریقوں نے اپنا اپنا حلف نامہ داخل کیا ہے ۔ آسام اور مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں آسام اکورڈ کی بحالی اور آسام میں شہریت کے لئے ۱۹۷۱ کو بنیادی سال ماننے کی سفارش کی ہے۔

جمعیتہ علما ہند کی آسام اور مرکزی حکومت کے ذریعہ شہریت کے لئے سپریم کورٹ میں دائر کردہ حلف نامہ کی تائید

مولانا محمود مدنی: فائل فوٹو

جمعیۃ علماء ہند صوبہ آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی کسی بھی غیر ملکی کی حمایت نہیں کی لیکن ہماری لڑائی صرف ہندوستان کے حقیقی شہریوں کو پریشان کئے جانے کے خلاف ہے اور اس کے لئے ہم ہر سطح پر لڑائی لڑ رہے ہیں، اور آسام اور مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں داخل حلف نامہ نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے اور ہمیں امید ہے کہ عدالتِ عظمی سے ہمیں انصاف ملے گا اور فرقہ پرستوں کواپنے منہ کی کھانی پڑے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز