شہریت کی آڑ میں آسام میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ بند کیا جائے: جمعیتہ علما ہند

May 02, 2017 08:21 PM IST | Updated on: May 02, 2017 08:21 PM IST

نئی دہلی۔ آسام کے مسلمانوں کی شہریت کا 1985 آسام اکورڈ  کے تحت حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمیعتہ علمائے ہند نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ شہریت کی آڑ میں آسام میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ بند کیا جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں جمعیتہ علمائے ہند نے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ جمعیتہ علما ہند کے صدر مولانا محمود محمود مدنی نے کہا کہ جمعیتہ کا موقف ہے کہ ملک میں غیر ملکی شہریوں کو شناخت کر کے اسے نکال باہر کیا جائے لیکن بے آسامی مسلمانوں کو اس کی آڑ میں ہرگز پریشان نہ کیا جائے جیسا کہ ان دنوں آسام میں ہورہا ہے اور اسی کے خلاف جمعیتہ سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمعیتہ میڈیا کے سامنے یہ مسئلہ اٹھا رہی ہے تاکہ دنیا کو یہ پتہ چل سکے کہ مسئلہ کیا ہے او وہ رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اس سلسلے میں 11مئی کو آئینی بینچ میں یومیہ سماعت ہوگی اور جمعیتہ اس مسئلے کو مضبوطی کے ساتھ رکھے گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کا مسئلہ ہے اور اسے منصفانہ طریقہ سے حل نہیں کیا گیا توانسانی بحران کا مسئلہ درپیش ہوجائے گا۔ آسام جمعیتہ علمائے ہند کے صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ ایک طرف ہمارے وزیر اعظم سب کا ساتھ سب کا وکاس کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری طرف ملک اورخصوصاً آسام میں مذہب اور زبان کے نام پر ایک طبقے کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں اس وقت 48لاکھ خواتین پر شہریت کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب لڑکیاں شادی کر کے دوسرے گاؤں یا علاقے میں جاتی ہیں تو وہاں کی پنچایت اسے سرٹی فیکٹ دیتی ہے اور اس کو شہریت کے ثبوت کے لئے حکوم مسلمہ 16دستاویز ات میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن آسام میں ایک ٹریبونل نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اسے منورہ بیگم نامی خاتون اس مسئلہ ہائی کورٹ گئی جہاں ہائی کورٹ نے پنچایت سرٹی فیکٹ کو شہریت کے لئے اس ثبوت کو کالعدم قرار دیا جس کی وجہ سے 48لاکھ سے زائد خواتین اس کی زد میں آگئی ہیں۔

شہریت کی آڑ میں آسام میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ بند کیا جائے: جمعیتہ علما ہند

انہوں نے اسے ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی شہری رجسٹرکا کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے اور اس میں آسام اکورڈ میں جو پیمانے مقرر کئے گئے تھے اس میں بنگلہ دیشی کا مسئلہ دم توڑتا ہوا نظرآیا جس کی وجہ سے وہاں کی حکومت نے یہ سازش رچی۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے تحت تقریباَ ایک کروڑ مسلمانوں کو آسام سے نکالنے کی تیاری کی گئی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس کی آڑ میں آسام کی پولیس رات میں سادے لباس میں دروازہ توڑ کر گھر میں گھستی ہے اور وہاں سے مسلم خواتین کو اٹھاکر لے جاتی ہے۔ ڈٹینشن کیمپ میں مسلم خواتین کو مجرموں کے ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور وہاں ان خواتین کے ساتھ کس کی طرح کی زیادتیاں ہوتی ہیں وہ بیان سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ معاملے غیر مسلموں کے بھی ہیں اور ہم غیر مسلموں کا بھی مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز