اترپردیش میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا پورا فائدہ بی جے پی کو ملا: شبیر احمد مظاہری

Mar 15, 2017 04:11 PM IST | Updated on: Mar 15, 2017 04:11 PM IST

پرتاپ گڑھ ۔  جمعیتہ علماء ہند اتر پردیش ( محمود مدنی ) کے صوبائی سکریٹری مولانا شبیر احمد مظاہری نے کہا کہ اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو مزید فائدہ حاصل ہوا ہے ،جو سیکولرزم کے دامن پر بد نما داغ ہے ۔ انہوں نے یواین آئی سے بات چیت کے دوران مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔ مولانا مظاہری نے کہا کہ اتر پردیش میں شکست کا سبب سیکولر پارٹیوں کی آپسی رشہ کشی و بکھراوُ سے ملک کے سیکولر ڈھانچہ کو مزید خسارہ ہوا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کے دوران لوگوں کو منقسم کرنے والی وزیر اعظم کی تقریر قبرستان و شمشان گھاٹ ،ہولی دیوالی جیسے نازک حساس الفاظ کے استعمال سے اکثریتی طبقے کے پسماندہ اور دلت برادری کے ووٹوں پر اثر ہوا اور سیکولر ووٹ منقسم ہو کر رہ گئے ۔اس سے بی جی پی فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی سیکولر پارٹیوں کیلئے ایک اہم سیاسی سبق ہے ۔خصوصی طور سے مسلم ووٹوں کے منقسم ہونے سے مسلم اکثریتی حلقوں میں بی جے پی کی فتح تعجب کی بات ہے ۔ ہماری قیادت اور سیاست کا دم بھرنے والوں کی لاپروائ عدم توجہی و آپسی اتحاد و اتفاق نہ ہونے کے سبب یہ نتائج آئےہیں ۔خصوصی طور سے مسلم لیڈران کا کردار کم منفی نہیں رہا ہے ۔حالات کو سمجھنے کی کوشش کیئے بغیر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے بی جے پی کو جو فائدہ ہوا ہے اس سے مسلم سیاست حاشیہ پر آگئی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیکولر خصوصی طور سے متحد مسلم ووٹوں نے جس بھگوا پارٹی کو پندرہ سال قبل بوریہ بستر لپیٹ کر ریاست بدر کر دیا تھا آج اسی بھگوا پارٹی کا اکثریت کے ساتھ آنا صرف سیکولر ووٹوں کی تقسیم اور بی جے پی کی حمایت میں پولرائزیشن سب سے بڑا سبب ہے ۔

اترپردیش میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا پورا فائدہ بی جے پی کو ملا: شبیر احمد مظاہری

انہوں نے کہا کہ ہر عروج کا زوال لازم ہے ۔اقتدار وہ شے ہے جو کسی ایک کے قبضہ میں نہیں رہتا ہے ۔اب مزید مایوس ہونے کےبجائے مسلمانوں کو سیاسی سبب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز