آرٹیکل 35 اے کے تنازع پر وزیر اعظم مودی سے وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی ملاقات

Aug 11, 2017 03:16 PM IST | Updated on: Aug 11, 2017 03:17 PM IST

نئی دہلی : جموں وکشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے جمعہ کو وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی۔ اس دوران محبوبہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی سے آرٹیکل 35 اے پر بات ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے۔ اس دوران خفیہ ایجنسیوں کو بھی معلومات ملی ہے کہ وادی میں علیحدگی پسند تنظیمیں اور سرحد پار کی پاکستان خفیہ ایجنسی اس آرٹیکل کے بہانے ایک بڑی سازش کی تیاری میں ہیں۔

ادھر اس معاملہ کو لے کر جموں وکشمیر کی بجہ سبھی سیاسی پارٹیاں متحد ہوتی نظر آرہی ہیں۔ تمام جماعتوں نے بہ یک آواز اسے برقرار رکھنے کی بات کہی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اگر 35 اےہٹایا جاتا ہے تو ریاست میں بڑی بغاوت ہوجائے گی ۔ وہیں وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے گزشتہ ماہ ہی بیان دیا تھا کہ اگر ریاست کے قوانین سے چھیڑ چھاڑ ہوئی تو کشمیر میں ترنگا لہرانے والا کوئی نہیں ہو گا۔

آرٹیکل 35 اے کے تنازع پر وزیر اعظم مودی سے وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی ملاقات

کیا ہے آرٹیکل 35 اے

آرٹیکل 35 اے کے تحت آئین میں یہ طاقت جموں و کشمیر کی اسمبلی کو دی گئی ہے۔ اس کے تحت وہ اپنی بنیاد پر 'مستقل شہری کی تعریف طے کرے ۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں مختلف حقوق بھی دئے جاسکتے ہیں ۔ دفعہ 370 جموں و کشمیر کو کچھ خصوصی حقوق دیتا ہے۔ 1954 کے ایک حکم کے بعد آرٹیکل 35 اے کو آئین میں شامل کر دیا گیا تھا۔

عمر عبداللہ نے دی تھی وارننگ

نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کو اس معاملہ میں وارننگ بھی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا اگر آرٹیکل 35 اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو کشمیر میں وہ ہو گا جو کبھی نہیں ہوا۔ اس مسئلے پر ان کی پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کی ایک میٹنگ کر کے کہا تھا کہ ریاست کے اسپیشل اسٹیٹس سے چھیڑ چھاڑ کی صورت میں مکمل اپوزیشن متحد ہے اور ہم سب ایک ساتھ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز