جموں و کشمیر پولیس سربراہ کی اپیل ، ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل، بھٹکے نوجوان اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئیں

Jul 06, 2017 07:22 PM IST | Updated on: Jul 06, 2017 07:22 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیل پال وید نے اسلحہ اٹھانے والے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کا راستہ ترک کرنے والے نوجوانوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور انہیں روزگار کی تربیت دی جائے گی۔ پولیس سربراہ نے ان باتوں کا اظہار اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا ہے جس کو انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپ لوڈ کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران 54 نوجوانوں کی کامیابی گھر واپسی یقینی بنائی گئی ہے۔ ڈاکٹر وید نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے ’اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کسی انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ جموں وکشمیر پولیس نے گذشتہ چند مہینوں کے دوران 54 نوجوانوں کو ملی ٹنسی کی گرفت سے باہر نکالا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو بھٹک گئے تھے اور جنہوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سے نہ صرف 54 جانیں بچ گئیں بلکہ درجنوں کنبے بھی تباہی سے بچ گئے ہیں۔

جموں و کشمیر پولیس سربراہ کی اپیل ، ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل، بھٹکے نوجوان اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئیں

file photo

انہوں نے کہا کہ میرے جوانوں اور اہلکاروں نے اُن (اسلحہ اٹھانے والے نوجوانوں) کے کنبوں سے بات کرکے اُن کوواپس لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس طرح سے نہ صرف 54 لوگوں کی جانیں بچ گئی ہیں بلکہ اُن کے کنبوں کو بھی بچایا گیا ہے‘۔ ایس پی وید نے کہا کہ تشدد کا راستہ ترک کرنے والے نوجوانوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ اسی طرح سے جو ہمارے باقی بچے بندوق اٹھاکر دہشت گردی کی گرفت میں آئے ہیں، وہ بھی دہشت گردی کا راستہ چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئیں۔ جموں وکشمیر پولیس ان کے ساتھ وعدہ کرتی ہے کہ کسی کو بھی کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی۔

اگر انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہوگا تو ہم اُن کو صحیح راہ پر لائیں گے۔ اُن کو روزگار کمانے کی ٹریننگ دیں گے۔ اُن کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا موقع دیں گے‘۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ گذشتہ 27 برسوں کے دوران 25 ہزار لوگوں نے تشدد کا راستہ ترک کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’گذشتہ 27 برسوں میں 25 ہزار لوگوں نے دہشت گردی کا راستہ چھوڑا ہے۔ یا پاکستان سے واپس آئے ہیں۔ آج وہ ایک نارمل زندگی گذار رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جو ہمارے چند بچے اس راستے پر گئے ہیں، وہ واپس آئیں‘ ۔

قابل ذکر ہے کہ ریاستی پولیس سربراہ کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وادی میں ان دنوں یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ جنگجو تنظیموں کی طرف سے 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے مرحوم کمانڈر برہان مظفر وانی کے آبائی علاقہ ترال میں جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت کے لئے ایک بھرتی ریلی کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ تاہم سیکورٹی اداروں سے وابستہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فورسز ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق کے مطابق بھرتی مہم کا انعقاد حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر ذاکر موسیٰ کرنے جارہے ہیں۔

ذاکر موسیٰ نے گذشتہ ماہ اس بات کا اعلان کیا کہ وہ ’آزادی برائے سیکولر اسٹیٹ کے لئے‘ نہیں بلکہ آزادی برائے اسلام کے لئے لڑرہا ہے۔ یعنی وہ وادی میں شریعت کے نفاذ کے لئے لڑرہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق وادی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک قریب ایک سو مقامی نوجوانوں نے بندوق اٹھاکر جنگجو تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز