کشمیر: انکاونٹرمیں 2 جنگجو ہلاک ، 16 سالہ طالب علم سمیت 2 شہری جاں بحق ، حالات میں کشیدگی

Mar 09, 2017 07:54 PM IST | Updated on: Mar 09, 2017 07:57 PM IST

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں جمعرات کو ہونے والے ایک مسلح تصادم اور تصادم کے مقام پر مقامی لوگوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں لشکر طیبہ سے وابستہ 2 جنگجو اور ایک 16 سالہ کمسن طالب علم سمیت 2 عام شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔ مسلح تصادم والے علاقہ ’پدگام پورہ‘ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے اور احتجاجی مظاہرین و سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کو روکنے کے لئے پورے ضلع پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کے طور پر وسطی کشمیر کے بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس معطل کردی ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مسلح تصادم آرائی کے مقام پر احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کی مابین ہونے والی جھڑپوں میں بیگم باغ کاکہ پورہ کا رہنے والا 16 سالہ طالب عامر نذیر وانی ولد نذیر احمد وانی سینے میں گولی لگنے سے جاں بحق ہوا۔ جبکہ تہاب پلوامہ کا رہنے والا ایک 23 سالہ نوجوان جلال الدین مبینہ طور پر جاری جھڑپوں کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔

کشمیر: انکاونٹرمیں 2 جنگجو ہلاک ، 16 سالہ طالب علم سمیت 2 شہری جاں بحق ، حالات میں کشیدگی

جھڑپوں میں قریب دو درجن دیگر عام شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والے مسلح تصادم کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ’پدگام پورہ اونتی پورہ میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پرفوج کی 55 راشٹریہ رائفلز (آر آر ) اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے گذشتہ رات مذکورہ گاؤں میں مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا‘۔

تاہم جب سیکورٹی فورسزمذکورہ گاؤں میں ایک مخصوص جگہ کی جانب پیش قدمی کررہے تھے تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر جھڑپ کا آغاز ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ دو مقامی جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔

ایک پولیس ترجمان نے مسلح تصادم کے دوران مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت محمد شفیع واگے عرف احسان اور جہانگیر احمد گنائی عرف سیف اللہ کے بطور کی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں جنگجو تشدد کے کئی ایک واقعات میں ملوث تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ سیکورٹی فورسز نے جنگجوؤں کو خودسپردگی پر قائل کرنے کے لئے ایک جنگجو کے گھروالوں کو بلایا اور لاوڈ اسپیکروں کے ذریعے گھر والوں کی باتیں جنگجو تک پہنچائی گئیں، لیکن جنگجوؤں نے خودسپردگی کی پیشکش ٹھکرادی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات کی صبح دھماکوں کی لرزہ خیز آوازیں سنیں۔

اس دوران ایک نویں جماعت کا طالب علم اُس وقت جاں بحق ہوگیا اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے جب سیکورٹی فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں رخنہ ڈالنے والے مقامی لوگوں پر آنسو گیس کے شیل برسانے کے علاوہ اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دیے۔ خیال رہے کہ فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بپن راوت نے وادی میں جنگجو مخالف کاروائیوں میں رخنہ ڈالنے والوں کے خلاف گذشتہ ہفتے سخت کاروائی کا اشارہ دیا تھا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران پدگام پورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی، آزادی حامی نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے بتایا کہ جب احتجاجیوں نے جھڑپ کے مقام کی طرف جانے کی کوشش کی توعلاقہ میں تعینات سیکورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کا مظاہرین پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے بعدازاں ہتھیاروں اور پیلٹ بندوقوں سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک 15 سالہ کمسن طالب عامر نذیر وانی جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو علاج ومعالجہ کے لئے مقامی کاکہ پورہ اسپتال لے جایا گیا جہاں عامر نذیر کو مردہ قرار دیا گیا۔ جبکہ تہاب پلوامہ کا رہنے والا ایک 23 سالہ نوجوان جلال الدین مبینہ طور پر جاری جھڑپوں کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔

ایک سینئر پولیس افسر نے ان رپورٹوں کو مسترد کیا کہ جلال الدین نامی نوجوان پولیس کاروائی میں جاں بحق ہوا۔ ایس ایس پی پلوامہ محمد رئیس بٹ نے یو این آئی کو بتایا ’ایک نوجوانوں کو اسپتال لایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ نوجوان کے جسم پر کوئی زخم نہیں تھا اور وہ دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ مہلوک نوجوان کے رشتہ داروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جلال الدین کو پدگام پورہ کی کھیتوں میں بے ہوشی کی حالت میں پایا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جلال الدین جھڑپوں کے دوران ہی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق دوسرے ایک نوجوان جس کی ٹانگ پر گولی لگی ہے کو علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر منتقل کیا گیا ہے۔

دریں اثنا ریلوے انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کے طور پر وسطی کشمیر کے بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس معطل کردی ہے۔ تاہم بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان ریل سروس کو جاری رکھا گیا ہے۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’بڈگام سے بانہال براستہ سری نگر، پلوامہ اور قاضی گنڈ چلنے والی ریل سروس کو آج سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل کیا گیا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ریل سروس کو معطل کرنے کا فیصلہ مقامی پولیس و سیول انتظامیہ کے مشورے پر لیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اسی ضلع کے ہفو نازنین پورہ ترال میں 4 اور 5 مارچ کی درمیانی شب کو ہونے والی ایک جھڑپ میں حزب المجاہدین سے وابستہ دو جنگجو مارے گئے تھے جبکہ جھڑپ کے دوران جموں وکشمیر پولیس کا ایک کانسٹیبل ہلاک ہوا تھا۔ مارے گئے جنگجوؤں میں سے ایک پاکستانی شہری جبکہ دوسرے کی شناخت حزب المجاہدین کمانڈر عاقب عرف مولوی ساکنہ ترال کے بطور کی گئی تھی۔ جھڑپ میں جاں بحق ہونے والا پولیس کانسٹیبل منظور احمد ضلع بارہمولہ کے اوڑی کا رہنے والا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز