مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے شروع کی جائے بات چیت، تیسرے فریق کو بھی کیا جاسکتا ہے شامل : فاروق عبداللہ

Jul 21, 2017 01:12 PM IST | Updated on: Jul 21, 2017 01:12 PM IST

نئی دہلی: نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ نے آج کہا کہ کشمیر مسئلہ پر پاکستان بھی ایک فریق ہے اور اس کے ساتھ بات چیت کرکے یہ مسئلہ حل کیا جانا چاہیے جس میں تیسرے فریق کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاکستان کی طرف سے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر عبداللہ نے نامہ نگاروں سے کہا کہ جب تک آپ کشمیر پر پاکستان سے بات نہیں کریں گے، مسئلہ کشمیر کا حل نہیں نکالیں گے ، یہ نہیں رکنے والا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر مسئلے میں پاکستان بھی ایک فریق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل نہیں نکالے جانے کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ریاست کے لوگوں کو ہو رہا ہے۔ جہاں ملک کے دوسری ریاستیں ترقی کر رہی ہیں، جموں و کشمیر اس میں پیچھے چھوٹ گیا ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ پاکستان سے بات کرنے کا مناسب وقت ہے، سرینگر-بڈگام پارلیمانی حلقہ سے ممبر پارلیمنٹ مسٹر عبداللہ نے کہا کہ آپ جب چین سے بات کر سکتے ہیں تو پاکستان سے بات کیوں نہیں کرسکتے ۔ دوستوں (تیسرے فریق ) کو شامل کیجئے اور بات کیجئے۔ اس سلسلے میں پوچھے جانے پر انہوں نے صاف کہا کہ وہ تیسرے فریق کی ثالثی کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ امریکہ ثالثی کے لئے تیار ہے۔

مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے شروع کی جائے بات چیت، تیسرے فریق کو بھی کیا جاسکتا ہے شامل : فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

حالات معمول پر آنے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر مذاکرات کرکے معاملے کو حل کئے جانے کی وکالت کرتے ہوئے مسٹر عبداللہ نے کہاکہ صحیح وقت کا انتظار کرتے کرتے 70 سال گزر چکے ہیں۔ ابھی اور کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس دوران چار جنگیں ہو چکی ہیں اور کتنے لوگوں کو مروائیں گے۔ آج دونوں ممالک کے پاس ایٹم بم ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز