جموں وکشمیر میں روہنگیا مسلمانوں کا خطرہ ما بعد 2014 پیش رفت کا پیدا کردہ : عمر عبداللہ

Sep 18, 2017 06:05 PM IST | Updated on: Sep 18, 2017 06:05 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کی طرف سے ہندوستان میں مقیم روہنگیا مسلمانوں پر اختیار کئے گئے موقف کہ ’ان کا غیرقانونی طریقے سے آنا اور رہنا ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے‘پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں یہ خطرہ مابعد 2014 ء پیش رفت کا پیدا کردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہونے والے یونیفائیڈ ہیڈکوارٹرس کے اجلاسوں میں کبھی ایسی رپورٹ زیر بحث نہیں آئی جس میں روہنگیا پناہ گزینوں کو ریاست کی سیکورٹی کے لئے خطرہ قرار دیا گیا۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں میں مقام میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کی تعداد 13 ہزار 400 ہے۔ یہ تارکین وطن جموں میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں۔ عمر عبداللہ جو کہ نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر بھی ہیں، نے روہنگیا مسلمانوں کے معاملے میں مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کردہ حلف نامے جس میں ان پناہ گزینوں ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا، پر اپنے ردعمل میں ایک ٹویٹ میں کہا ’جموں وکشمیر میں یہ خطرہ مابعد 2014 ء پیش رفت کا پیدا کردہ ہے‘۔ ان کا اشارہ ریاست میں 2015 کے اوائل میں معرض وجود میں آنے والی پی ڈی پی ، بی جے پی حکومت کی طرف تھا۔

جموں وکشمیر میں روہنگیا مسلمانوں کا خطرہ ما بعد 2014 پیش رفت کا پیدا کردہ : عمر عبداللہ

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید لکھا ’ریاست میں ہونے والے یونیفائیڈ ہیڈکوارٹرس کے اجلاسوں (سیکورٹی اجلاسوں) میں کبھی ایسی رپورٹ زیر بحث نہیں آئی جس میں روہنگیا پناہ گزینوں کو ریاست کی سیکورٹی کے لئے خطرہ قرار دیا گیا‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز