جموں وکشمیر میں مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ، دنیشور شرما کی جموں میں تقریبا 30 وفود سے ملاقات

Nov 10, 2017 07:32 PM IST | Updated on: Nov 10, 2017 07:32 PM IST

جموں: مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر کے لئے تعینات کردہ مذاکرات کار دنیشور شرما نے جمعہ کے روز بحیثیت ’مذاکرات کار‘ اپنا پہلا دورہ جموں وکشمیر کو سمیٹے ہوئے سرمائی دارالحکومت جموں میں سیاسی، سماجی اور سول سوسائٹی کی قریب 30 وفود سے ملاقات کی۔ریاستی گیسٹ ہاوس میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے دوران بیشتر وفود نے جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کے انخلاء، درآمدی اشیاء پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا سلسلہ ختم کرنے، جموں وکشمیر کے آخری مہاراجہ ’مہاراجہ ہری سنگھ‘ کے جنم دن پر تعطیل کا اعلان کئے جانے اور صوبہ جموں کے ساتھ ہورہی مبینہ ناانصافی کے سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ دنیشور شرما ہفتہ کی صبح واپس نئی دہلی روانہ ہوں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ’نامزد مذاکرات سے سیاسی، سماجی اور سول سوسائٹی تنظیموں کی قریب 30 وفود نے ملاقات کی‘۔ ان تنظیموں میں چیمبر آف ٹریڈرس فیڈریشن (جموں)، جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، جموں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن،جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی، وشوا ہندو پریشد، ڈوگرہ صدر سبھا، آل سول سوسائٹی فورم (جموں)، رفیوجیز ایکشن کمیٹی (مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کی تنظیم)، کشمیری پنڈت ایسوسی ایشنز، جموں وکشمیر گردوارہ پربندک بورڈ، پریس کلب آف جموں، ٹرانسپورٹ یونین اور او بی سی مہا سبھا کے نام شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں تین دن گذارنے کے بعد دنیشور شرما جو کہ انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ ہیں، جمعرات کو دوپہر کے وقت یہاں پہنچے۔

جموں وکشمیر میں مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ، دنیشور شرما کی جموں میں تقریبا 30 وفود سے ملاقات

مذاکرات کار دنیشور شرما

انہوں نے جمعرات کو یہاں ریاستی گورنر این این ووہرا اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت پارٹی کے ریاسی صدر ست شرما کررہے تھے۔ مذاکرات کار دنیشور شرما نے وادی میں قریب 60 وفود اور بعض مین اسٹریم سیاسی لیڈران بشمول نیشنل کانفرنس کارگذار صدر عمر عبداللہ، سی پی آئی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی، پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین، ڈی پی این کے غلام حسن میراور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید سے ملاقات کی۔

کانگریس کے وفد نے ریاستی صدر غلام احمد میر کی قیادت میں مسٹر شرما کے ساتھ سری نگر میں ملاقات کی۔ تاہم علیحدگی پسند خیمے میں سے کسی بھی فرد نے مسٹر شرما سے ملاقات نہیں کی ۔ اس کے علاوہ وادی کی تقریباً تمام بنیادی سول سوسائٹی جماعتوں، کشمیر بار ایسو سی ایشن اور تجارتی انجمنوں نے بھارتی مذاکرات کار کے ساتھ ملاقات کرنے سے گریز کیا۔

مسٹر شرما اپنے اگلے دورہ جموں وکشمیر کے دوران خطہ لداخ کا بھی دورہ کریں گے۔ جمعہ کو جموں میں ریاستی گیسٹ ہاوس میں دن بھر چلنے والے ملاقاتوں کے سلسلے کے دوران چیمبر آف ٹریڈرس فیڈریشن (جموں) نے درآمدی اشیاء پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا سلسلہ ختم کرنے اور جموں وکشمیر کے آخری مہاراجہ ’مہاراجہ ہری سنگھ‘ کے جنم دن پر تعطیل کا اعلان کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو نکال باہر کرنے اور ریاست میں پنچایتی انتخابات کے فوری انعقاد کا مطالبہ کیا گیا۔ جموں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے ٹول ٹیکس کے خاتمے، جموں سے روہنگیا مسلمانوں کے انخلاء، مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن پر تعطیل کا اعلان کئے جانے، کشمیر اور جموں میں اسمبلی حلقوں کی تعداد میں پائے جارہے تفاوت کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔

جموں وکشمیر پنتھرس پارٹی نے جموں کے ساتھ ہورہی مبینہ ناانصافی کا ذکر کرتے ہوئے جموں اور کشمیر کو الگ الگ ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ویشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے ہندوستان اور جموں وکشمیر کے رشتے میں دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 کو رکاوٹیں قرار دیتے ہوئے ان کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈوگرہ صدر سبھاو آل سول سوسائٹی فورم (جموں) نے علیحدگی پسندوں کے خلاف این آئی اے کی چھاپہ مار کاروائیوں کی طرز پر مین اسٹریم سیاسی لیڈران کے خلاف کاروائیاں عمل میں لانے جبکہ مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کی تنظیم ’رفیوجیز ایکشن کمیٹی‘ نے ریاستی شہریت کے حقوق دلانے یا ملک کے کسی دوسری ریاست میں منتقل کرنے کے مطالبے دنیشور شرما کے سامنے رکھیں۔

کشمیری پنڈت ایسوسی ایشنز نے کشمیری پنڈتوں کی یک وقتی کشمیر واپسی یقینی بنانے اور جموں وکشمیر گردوارہ پربندک بورڈ نے ریاست میں مقیم سکھوں کو اقلیت کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ چیمبر آف ٹریڈرس فیڈریشن (جموں) کے صدر نیرج آنند کی قیادت والی وفد نے دنیشور شرما کے ساتھ ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا ’جموں جو آج تک اپنے قوم پرست موقف پر کھڑا رہا ہے، اسی کا ہم نے اعادہ کیا ۔ ہمیں گذشتہ دنوں کچھ معاملات کو لیکر ایجی ٹیشن کرنی پڑی اور جموں بند کی کال بھی دینی پڑی۔ ہم نے دنیشور شرما کے سامنے دو اہم معاملات کو اٹھایا ہے۔ جموں نے ہمیشہ امن کا ساتھ دیا ہے۔ جموں نے ہمیشہ قوم پرست قوتوں کو مضبوط کیا ہے‘۔

مسٹر نیرج نے دنیشور شرما کے ساتھ درآمدی اشیاء پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی اور مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن پر تعطیل کے معاملات اٹھانے کی بات کرتے ہوئے کہا ’ہم نے دوسری ریاستوں سے برآمد ہونے والی اشیاء پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو چیزیں مہنگی داموں خریدنی پڑرہی ہیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ وہ اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرکے اس کو ختم کروائے۔ ہم نے مہاراجہ ہری سنگھ جی جو کہ اہلیان جموں کے جذبات کے ساتھ جڑا ہوا معاملہ ہے، کے جنم دن پر تعطیل کا اعلان کئے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ یہ جموں کے تمام لوگوں کا مطالبہ ہے۔ ہم امید ہے کہ جب یہ معاملے مرکزی سرکار کی نوٹس میں لائے جائیں گے تو مثبت نتائج برآمد آئیں گے۔ ریاستی سرکار ہمارے جذبات کو سمجھ نہیں پارہی ہے۔ دنیشور شرما جی نے ہمیں یقین دلایا کہ ان معاملات پر جلد از جلدغور کیا جائے گا‘۔

جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر راکیش گپتا کی قیادت والی وفد نے جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو نکال باہر کرنے اور ریاست میں پنچایتی انتخابات کے فوری انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ راکیش گپتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم نے روہنگیا پناہ گزینوں کو جموں سے نکال باہر کرنے کی بات کی۔ ہم نے ان کو واضح الفاظ میں بتایا کہ اگر ان کی ملک بدری کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے تب تک ان کی شناخت کرکے ان کو ایک جگہ پر محدود کیا جائے۔ ان کو جموں کی اصل آبادی کے ساتھ مکس نہ ہونے دیا جائے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’ ہم نے دنیشور جی کو بتایا کہ چند کچھ خاندان ہیں جو ریاست پر راج کررہے ہیں۔ اگر یہ نظام نہ بدلا گیا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ ہم نے ان سے مطالبہ کیا کہ ریاست میں پنچایت الیکشن عنقریب کئے جانے چاہیے تاکہ عام لوگوں کو بااختیاری کا احساس ہو‘۔ جموں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ بی ایس سلاتھیا کی قیادت والی وفد نے ٹول ٹیکس کے خاتمے، جموں سے روہنگیا مسلمانوں کے انخلاء، مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن پر تعطیل کا اعلان کئے جانے، کشمیر اور جموں میں اسمبلی حلقوں کی تعداد میں پائے جارہے تفاوت کو دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز