جموں و کشمیر : 2016 کے مظاہروں میں ملوث کشمیری نوجوانوں کیلئے عام معافی کا محبوبہ مفتی نے کیا اعلان

Jan 10, 2018 10:29 PM IST | Updated on: Jan 10, 2018 10:29 PM IST

جموں: جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک اور اہمیت والے بڑے فیصلے کے تحت 2016ء کے نامساعد حالات کے دوران مختلف کیسوں میں ملوث نوجوانوں کے حق میں عام معافی کا اعلان کیا۔ انہوں نے ریاست اور ملک کے تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آ گے آکر ریاست کو موجودہ غیریقینیت اور خون خرابے سے باہر نکالنے میں تعاون دیں۔ بدھ کے روز یہاں قانون ساز اسمبلی میں گورنر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر ہوئے بحث و مباحثے کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے حال ہی میں4327 نوجوانوں کے خلاف معاملات خارج کرنے کی ہدایت دی ۔

اس کے علاوہ 2016ء کے دوران نوجوانوں کے خلاف درج معاملات کا جائزہ لینے کے لئے بھی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ انہوں نے ایوان میں تالیوں کی گونج میں اعلان کیا’ مجھے خوشی ہے ہم نے تقریباً 9ہزار نوجوانوں کو عام معافی دینے کا فیصلہ لیا ہے‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ عسکریت پسندوں کی صفوں میں داخل ہوئے نوجوانوں کو واپس اپنے گھروں اور دوستوں کے پاس لوٹنے میں مدد کر یں۔انہوں نے کہا’ میں انہیں واپس لانے کے لئے کوشاں رہوں گی اور یہ یقینی بناؤں گی کہ کوئی انہیں ہراساں نہ کرے۔کئی واپس لوٹے ہیں تاہم سوشل میڈیا پر چند لوگوں کی جانب سے تشدد کی ستائش پر مجھے افسوس ہے‘ ۔

جموں و کشمیر : 2016 کے مظاہروں میں ملوث کشمیری نوجوانوں کیلئے عام معافی کا محبوبہ مفتی نے کیا اعلان

فائل فوٹو۔ رائٹر

بات چیت ہی آگے جانے کے لئے واحد راستہ قرار دیتے ہوئے وزیرا علیٰ نے کہا کہ کابینہ سیکرٹری کے مرتبے کے افسر دنیشور شرما کی پچھلے برس مذاکرات کار کی حیثیت سے تعیناتی ریاست میں بات چیت کا عمل جاری رکھنے میں ایک بڑا فیصلہ تھا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مختلف طبقہ ہائے فکر شرما کی طرف سے شروع کئے گئے مشاورتی عمل میں حصہ لیں گے اور یہ عمل مثبت طریقے سے آگے بڑھے۔ چند حزب اختلاف ممبران کی طرف سے اُٹھائے گئے نکات کی وضاحت کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جو منڈیٹ انہیں دیا گیا ہے وہ بالکل شفاف اور قطعی ہے اور شرما کی تعیناتی بات چیت کے عمل کو آگے لے جانے کے لئے کی گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ریاست کو تشدد سے باہر نکالنے میں تمام تر اقدامات کریں۔ انہوں نے ریاست اور ملک کے تمام طبقہ ہائے فکر سے اپیل کی کہ وہ آگے آکر ریاست جموں وکشمیر کو غیر یقینیت اور خون خرابے سے باہر لانے میں اپنا رول ادا کریں۔نیشنل سیکورٹی مشیروں کی حالیہ میٹنگ کی رپورٹوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے مابین رشتوں کی استوار ی اور ریاست کو دونوں کے مابین یقین و اعتماد کا پُل بنانے کی تمنارکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر اسٹریجیک محل وقوع ہے جسے مثبت اور ثمر آور نتائج کے لئے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز