کشمیر میں حالات کی بہتری کا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا دعوی غلط ، انکاونٹر اور احتجاج جار ی : نیشنل کانفرنس

نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے وادی کشمیر میں امن وامان کی بحالی کے دعوے غلط ہیں۔

Dec 21, 2017 08:11 PM IST | Updated on: Dec 21, 2017 08:11 PM IST

سری نگر: نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے وادی کشمیر میں امن وامان کی بحالی کے دعوے غلط ہیں۔پارٹی کا کہنا ہے کہ وادی میں حالیہ دنوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کو جواز بخشنے کے لئے نت نئی کہانیاں سنائی جارہی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے جمعرات کو ضلع بارہمولہ کے ٹنگمرگ اور چک کاووسہ میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ایک طرف مرکزی اور ریاستی حکومتیں وادی میں حالات کی بہتری کے بلند بانگ دعوے کررہی ہیں اور دوسری جانب آئے روز انکاؤنٹر ہورہے ہیں، کریک ڈاؤن کئے جارہے ہیں، احتجاج اور مظاہرے ہورہے ہیں اور عام لوگوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بتدریج جاری ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ شہری ہلاکتوں کو جواز بخشنے کے لئے نت نئی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر کمال کا کہنا تھا ’ ہندوارہ میں نوجوان سوموڈرائیور اور خاتون کی ہلاکت ہویا پھر شوپیاں میں جواں سال خاتون کو ابدی نیند سلانے کا واقعہ، ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر ہلاکتوں کو جواز بخشنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ شوپیاں کی جواں سال خاتوں کی احتجاج کے دوران ہلاکت کے دعوے اُس وقت جھوٹے ثابت ہوئے جب اُس کے والدین نے یہ انکشاف کیا کہ مذکورہ خاتون کو اپنے گھر میں گولی مار کر ابدی نیند سلادیا گیا۔

کشمیر میں حالات کی بہتری کا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا دعوی غلط ، انکاونٹر اور احتجاج جار ی : نیشنل کانفرنس

علامتی تصویر

نیشنل کانفرنس معاون جنرل سکریٹری نے کہا کہ کریک ڈاؤنوں کے دوران مکانوں اور دیگر مال و جائیداد کو نقصان پہنچانے کا چلن اب عام ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے نہ تھمنے والے سلسلے میں حالات کی بہتری کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹرکمال نے ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ’حکمران اور انتظامیہ عوام کی خدمتگار ہوتی ہے اور لوگ فلاح و بہبود، آرام و آسائش اور راحت کی آس لگا کر ووٹ ڈالتے ہیں اور ایک حکومت معرض وجود میں آتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ سرکار اب تک ہر محاذ پر عوامی مشکلات و مصائب اور مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے، پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت یہاں کے عوام کو نہ تو بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بناپارہی ہے اور نہ ہی لوگوں میں احساس تحفظ پیدا کر پارہی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اہل ریاست بدترین حکمرانی کے شکار ہیں اور لوگوں کو انتہائی مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگوں کو اب موجودہ حکومت سے کوئی اُمید نہیں، کیونکہ حکومتی سطح پر صرف کشمیر دشمن اور کشمیر مخالف اقدامات ہورہے ہیں ، باقی ماندہ کام نہ ہونے کے برابر ہورہے ہیں۔ لوگوں کے روز مرہ کے مسائل کے تئیں حکومت کی غفلت شعاری پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ آئے روز لوگ سڑکوں پر آکر بجلی، پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ لوگوں کو روز مرزہ کی ضروریات کی سپلائی میں کوئی بھی بہتری نہیں آرہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز