ہندوستان میں فرقہ پرستی کی آگ لگی ہوئی ہے، کشمیر کو بچانا ہوگا : فاروق عبداللہ

Mar 20, 2017 06:48 PM IST | Updated on: Mar 20, 2017 06:48 PM IST

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان میں اس وقت فرقہ پرستی کی آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو جموں وکشمیر تک پھیلنے سے روکنے کے لئے سیکولر طاقتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ سری نگر پارلیمانی نشست کے لئے ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرنے کے بعد این سی صدر فاروق عبداللہ نے پیر کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں اس وقت جو فرقہ پرستی کی آگ لگی ہوئی ہے، اگر اس آگ پر فوری طور پر قابو نہیں پایا گیاتو ایسے شعلے بھڑکیں گے جو نہ صرف بھارت بلکہ ریاست جموں وکشمیر اور سرحد پار تک جائیں گے، وقت کا تقاضہ ہے کہ سیکولر طاقتیں متحدہ ہوکر ریاست جموں وکشمیر کو فرقہ پرستی کی آگ کی نذر ہونے سے بچائیں‘۔

اس انتخابی جلسہ جس میں این سی کارگذار صدر عمر عبداللہ اور ریاستی کانگریس صدر جی اے میرکے علاوہ دونوں جماعتوں کے سرکردہ قائدین بھی موجود تھے، سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا ’ ہمارا دشمن مشترکہ ہے، اس لئے ہمیں تمام رنجشیں اور دوریاں بالائے طاق رکھ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ صرف اور صرف اسی صورتحال میں ہم کامیاب و کامران ہوسکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے آر ایس ایس کی شاخ ہونے کے بارے میں ابھی بھی لوگوں میں چند شک و شبہات تھے، لیکن بھاجپا کی طرف سے آنے والے ضمنی انتخابات کے لئے پی ڈی پی امیداروں کے لئے انتخابی مہم چلانے سے تمام شک و شبہات دور ہوگئے۔

ہندوستان میں فرقہ پرستی کی آگ لگی ہوئی ہے، کشمیر کو بچانا ہوگا : فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ پی ڈی پی ہندو فرقہ پرست جماعت آر ایس ایس کی پیدوار ہے اور آج ہماری کہی ہوئی ساری باتیں صحیح ثابت ہوئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے اتنی تن دہی اور لگن کے ساتھ آر ایس ایس کے فرمانوں پر عمل کیا کہ اب بھاجپا قلم دوات والوں کے لئے انتخابی مہم چلا رہی ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ لوگوں کو اس بار ووٹ ڈالنے سے پہلے سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ وہ کشمیر کو آر ایس ایس کی جولی میں ڈالنا چاہتے ہیں یا پھر فرقہ پرستی سے نجات پانے کے لئے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہے۔

انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کی دوستی پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ وہ آپس میں شیر و شکر ہوجائیں اور کشمیریوں کو غیریقینیت اور بے چینی کے بھنور سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات دلائیں۔ کانگریس لیڈر اور سابق ایم پی طارق حمید قرہ نے اپنے طویل خطاب میں اس بات کی وضاحت کی انہوں نے پی ڈی پی کو خیر باد کیوں کہا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے مرحوم مفتی صاحب کو روز اول سے کہا کہ بھاجپا کیساتھ اتحاد کرنا کشمیریوں کیساتھ دھوکہ دہی ہوگی کیونکہ بھاجپا اصل میں آر ایس ایس کی شاخ ہے اور آر ایس ایس نہ صرف بھارت کے مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن جماعت ہے بلکہ کشمیری کی انفرادیت، اجتماعیت اور خصوصی پوزیشن بھی اس جماعت کو پہلے سے ہی کھٹکٹی آئی ہے۔ طارق حمید قرہ کا کہنا تھا کہ میں نے پی ڈی پی قیادت سے کہا کہ ہم بی جے پی کے بجائے سیکولر اور مقامی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے کیونکہ بی جے پی کو اقتدار میں لانے سے یہاں ایک طوفان برپا ہوگا، جو وقت نے ثابت کردیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے کشمیریوں کی فکر کئے بغیر اقتدار کو ترجیح لیکن میرے ضمیر نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی اور میں نے ایسی کرسی کو لات مار دی جس میں میرے کشمیریوں کے مفادات غیر محفوظ ہوں۔ قرہ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ میرے قریبی ساتھی بھی کرسی سے ہی لپٹے رہے اور نہ صرف مجھ سے بلکہ لوگوں کیساتھ بے وفائی کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب پی ڈی پی غرق ہوجائے گی کیونکہ یہ جماعت کشمیریوں کی نظروں سے گر گئی ہے اور اپنی ناقص کارکردگی سے عوام اعتماد بھی کھو بیٹھی ہے۔ یہ جماعت اسلام اور کشمیریوں کیخلاف آر ایس ایس کے ساتھ مل گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے جس بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا ہے اُس بھاجپا نے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست یو پی میں آر ایس ایس کے ایسے فرقہ پرست لیڈر کو وزیر اعلیٰ بناڈالا ، جس نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ مردہ مسلم خواتین کو بھی نہیں چھوڑنا چاہئے اور ان کی بھی عصمت دری کرنی چاہئے۔ پی ڈی پی والوں کا ضمیر اگر ذرا برابر بھی بیدار ہوتا تو اب کی بار یہ لوگ بھاجپا سے کنارہ کشی کر لیتے لیکن اقتدار کی حوس میں قلم دوات والوں کے ضمیر مردہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن سے قبل بی جے پی کو روکنے کے لئے لوگوں سے ووٹ مانگے اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے لوگوں کو دھوکہ دیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز