جموں وکشمیر: دفعہ 35 اے پر اپوزیشن کے وفد کی گورنر سے ملاقات، اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ

Sep 04, 2017 04:34 PM IST | Updated on: Sep 04, 2017 04:34 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کی اپوزیشن جماعتوں نے ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے کے دفاع کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اورریاست کو درپیش دوسرے سنگین مسائل پر بحث کے لئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے گذشتہ ہفتے ریاستی حکومت کی اپیل پر دفعہ 35 اے سے متعلق مقدمے کی سماعت دیوالی کے تہوار تک موخرکردی۔ نیشنل کانفرنس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پارٹی کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں پیر کے روز ریاستی اپوزیشن کا ایک اعلیٰ سطحی وفد گورنر شری این این ووہرا سے راج بھون میں ملاقی ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ وفد میں ریاستی کانگریس صدر جی اے میر، سی پی آئی ایم کے ایم وائی تاریگامی، پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین، ڈی پی این کے غلام حسن میر، نیشنل کانفرنس کے علی محمد ساگر، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، میاں الطاف احمد اور محمد اکبر لون اور کانگریس کے عثمان مجید شامل تھے۔ فاروق عبداللہ نے گورنرمسٹر ووہرا سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈران کے وفد نے گورنر پر زور دیا کہ وہ ریاست کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس طلب کرے۔ انہوں نے کہا کہ وفد نے گورنر کو اس بات سے آگاہ کیا کہ اس وقت ریاست ہر معاملے میں بے چینی کی شکار ہے، سیاسی انتشار کے ساتھ ساتھ انتظامی بحران عروج پر ہے۔

جموں وکشمیر: دفعہ 35 اے پر اپوزیشن کے وفد کی گورنر سے ملاقات، اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

چور دروازے سے بھرتیاں عمل میں لائیں جارہی ہیں، اقربا پروری اور اقربانی نوازی کا دور دورہ ہے، پیسوں کے عوض نوکریاں کی فراہمی کا چلن عام ہوگیا ہے، ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جو ریاست کے لئے تباہی اور بربادی کا باعث بن سکتے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم نے گورنر پر زور دیا کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے اسمبلی کا سیشن طلب کریں ، جس میں عوامی نمائندوں قانون ساز کونسل اور قانون ساز اسمبلی میں اپنے اپنے لوگوں اور علاقوں کے مسائل و مشکلات اور زمینی صورتحال سامنے لاسکیں۔

اس موقع پر سی پی آئی کے ایم وائی تاریگامی نے نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وجہ جو سیاسی اور انتظامی معاملات ہیں اُن کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی ہے۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ ریاست کے گورنر شری این این ووہرا ریاست جموں وکشمیر کی صورتحال کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔ موجودہ حکومت نے اسمبلی کے فورم کو کمزور بنادیا ہے، اگر اس ادارے کو فعال بنانے ہے تو موجودہ سیاسی اور روز مرہ کے معاملات کے پیش نظر فوری طور پر اسمبلی سیشن بلایا جانا چاہئے۔

دریں اثنا گورنر ووہرا سے ملاقات سے قبل اپوزیشن لیڈران نے نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ کی رہائش پر ایک میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست جموں وکشمیر کے موجودہ سیاسی، انتظامی اور سیکورٹی صورتحال کے علاوہ دیگر معاملات کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا گیا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز