کشمیری علیحدگی پسند لیڈروں کا الزام ، محبوبہ مفتی این آئی اے کا بطور جنگی ہتھیار کررہی ہیں استعمال

Aug 04, 2017 08:03 PM IST | Updated on: Aug 04, 2017 08:03 PM IST

سری نگر: کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعے گرفتار کئے گئے علیحدگی پسند لیڈران جن کو جمعہ کے روز نئی دہلی میں پٹیالہ کوٹ میں سماعت کے لیے حاضر کیا گیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ان قائدین کو تحقیقات کے نام پر ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست کی چیف منسٹر محبوبہ مفتی اور اس کی جماعت دباؤ اور انسداد کا مجسمہ بنی ہوئی ہے جس کو کشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے کہا کہ تحریکِ حقِ خودارادیت کے تئیں لوگوں کے تعاون سے خوفزدہ ہوکر اس خاتون نے پہلے ہر کوئی ظلم وغارت گری کا مظاہرہ کیا اور اب یہ این آئی اے کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کررہی ہیں۔ علیحدگی پسند قیادت نے یہاں جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ’ محبوبہ مفتی اپنے دہلی میں بیٹھے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے یہاں کی حقیقی آواز کو دبانا چاہتی ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے‘۔

کشمیری علیحدگی پسند لیڈروں کا الزام ، محبوبہ مفتی این آئی اے کا بطور جنگی ہتھیار کررہی ہیں استعمال

انہوں نے دہلی کوٹ میں کشمیری علیحدگی پسند قائدین جن میں پیر سیف اللہ، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، راجہ معراج الدین کو 14اگست تک این آئی اے کی حراست میں، جبکہ شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار اور ایاز اکبر کو 1ستمبر تک عدالتی حراست میں دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ انتقامی ایجنسی اپنے ماسٹرس کے کہنے پر اس فرضی اور بے بنیاد کیس کو طول دیتے ہیں جس طرح ماضی میں یہ کرتے آئے ہیں، تاکہ ان کشمیریوں کی حق وصداقت پر مبنی جدوجہد کو اسلامی دہشت گردی یا پاکستان سپانسرڈ قرار دیا جائے ۔ مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے کہا کہ اقوامِ عالم کی طرف سے جو گزشتہ کئی سالوں سے بھارت پر دباؤ تھا کہ جموں کشمیر کو کسی تاخیر کے بغیر حل کرنے میں عوامی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا حکومتِ ہندوستان نے این آئی اے اور میڈیا کا سہارا لے کر یہاں کے اپنے گماشتوں کے ذریعے ایک نیا ڈرامہ رچایا ہے، تاکہ ریاست میں قائم جدوجہد کو پسِ منظر میں دھکیلا جائے۔ انہوں نے کہا ان تمام منصوبوں کے خلاف قیادت متحد اور مضبوط ہے۔

علیحدگی پسند قیادت نے اپنے بیان میں شبیر احمد شاہ کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ عدالت میں پیش آیا ہوا واقع بھارتی حکمرانوں کی فسطائیت کی کھلی مثال ہے۔ انہوں نے الزم لگایا کہ بھارتی عدالتوں میں بھی جن سنگھیوں کا راج چلتا ہے جس کی وجہ سے ان قائدین کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔ علیحدگی پسند قائدین نے اپنے بیان میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے شبیر احمد شاہ کی گرفتاری کو طول دینے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

انہوں نے این آئی اے کی جانب سے حریت پسند قیادت کو پراپرٹی کے نام پر فرضی الزامات میں ملوث اور میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر کو گمراہ کُن اور پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے اس کو مسترد کیا اور کہا ’ اصل میں بھارت کا یہ ہدف ہے کہ جموں کشمیر کے عوام اپنے قائدین سے بدظن ہوکر بھارت کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنے پر مجبور ہوجائے‘۔ مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے الزام لگایا ’ بھارت پچھلے 70 سال سے ایسے حربے آزماتا رہا ہے اور اسے ہمیشہ ناکامی ہاتھ لگی ہے اور آئندہ بھی اسے ناکامی کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔

جموں کشمیر کے عوام اب سیاسی طور پختہ اور بالغ نظر ہے اور وہ سچ اور جھوٹ میں اچھی طرح فرق کرنا جانتی ہے اور بھارت کے اس نئے ڈرامے کا کشمیر میں ناظر میسر نہیں ہوگا‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز