جموں و کشمیر : کپواڑہ میں فوج کی فائرنگ میں 22 سالہ آصف اقبال کی موت ، صورتحال کشیدہ ، جھڑپیں

Dec 17, 2017 12:46 PM IST | Updated on: Dec 17, 2017 12:46 PM IST

سری نگر: شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں گزشتہ رات سیکورٹی فورسیز کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایک ڈرائیور کی موت کے بعد سے ضلع کپواڑہ میں شدید غم وغصے کی لہر ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد مقامات پر مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ انتظامیہ نے احتیاطی طور پر ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی ہیں۔ فوج کے ہاتھوں عام شہری کی مبینہ ہلاکت کا یہ واقعہ کپواڑہ کے ٹھنڈی پورہ نامی گاؤں میں پیش آیا ہے۔ مقتول ڈرائیور کی شناخت 22 آصف اقبال ولد محمد اقبال کے بطور ہوئی ہے۔

ٹھنڈی پورہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آصف جو کہ سومو گاڑی چلاتا ہے ، کو گذشتہ رات قریب ساڑھے گیارہ بجے ایک فون کال ملی ، جس میں اسے ایک بیمار کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے کہا ’جوں ہی آصف بیمار کو اسپتال لے جانے کی غرض سے اپنی سومو گاڑی لے کر اپنے گھر سے روانہ ہوا تو نزدیک میں سیکورٹی پر تعینات فوجیوں نے اس پر فائرنگ کردی ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ آصف کو شدید زخمی حالت میں کرالپورہ اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے سری نگر منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایا ’وہ سری نگر پہنچائے جانے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔ وہ سوپور میں دم توڑ گیا‘۔

جموں و کشمیر : کپواڑہ میں فوج کی فائرنگ میں 22 سالہ آصف اقبال کی موت ، صورتحال کشیدہ ، جھڑپیں

شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں صورتحال کشیدہ ۔ فائل فوٹو

ادھر سیکورٹی ذرائع نے آصف کی ہلاکت کو غلط شناخت کا معاملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا ’فوج کو علاقہ میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق اطلاع ملی تھی۔ اس اطلاع کی بناء پر فوجی اہلکار جنگجوؤں کی نقل وحرکت کے انتظار میں گھات لگا کر بیٹھے تھے‘۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ سومو ڈرائیور کو رکنے کے لئے کہا گیا تھا، لیکن جب اس نے فوج کی ہدایت کو نظرانداز کیا تو انہوں نے فائرنگ کی‘۔ ایک رپورٹ میں ایس ایس پی کپواڑہ شمشیر حسین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ ایس ایس پی نے کہا ہے کہ قصورواروں کو سزا دی جائے گی۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیں اور پولیس کو اپنا بھرپور تعاون دیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق فوج کے ہاتھوں آصف کی ہلاکت کی خبر جوں ہی ضلع کپواڑہ میں پھیل گئی تو متعدد دیہات میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا۔ کچھ ایک دیہات بشمول بتہ پورہ سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق آصف کی لاش کو ٹھنڈی پورہ لے جانے والی ایمبولنس گاڑی کو لوگوں نے بتہ پورہ میں روکا اور فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ تاہم جب احتجاجی سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کے مرتکب ہوئے تو انہوں نے ردعمل میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔ انتظامیہ نے ضلع کپواڑہ میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع کے کچھ ایک حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز