کشمیر میں موبائیل فون صارفین کا بی ایس این ایل پر فحش پیغامات بھیجنے کا الزام ، پڑھیں کیا ہے معاملہ

Sep 28, 2017 11:49 AM IST | Updated on: Sep 28, 2017 11:49 AM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کے صارفین نے اس سرکاری مواصلاتی کمپنی پر فحش ، بے حیائی اور غیراخلاقی پیغامات (ایس ایم ایس) بھیجنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بی ایس این ایل صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے سم کارڈوں پر ہر روزمذکورہ کمپنی کی جانب سے بھیجے جانے والے فحش اور بے حیائی کے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ کوئی لڑکی ان کے فون کال کے انتظار میں ہے۔

بی ایس این ایل صارفین کے مطابق یہ پیغامات (ایس ایم ایس) مرد عورت اور چھوٹے بڑے میں تمیز کئے بغیر بھیجے جاتے ہیں۔ کمپنی کے ایک صارف نے بتایا ’میرے موبائیل فون پر اکثروبیشتر فحاشی اور بے حیائی پر مبنی پیغام بھیجے جاتے ہیں، جن میں کچھ مخصوص ٹیلی فون نمبرات دیے جاتے ہیں اور مجھ سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم فری (فارغ) ہو تو اس نمبر پر فون کرواور ایک لڑکی آپ کی کال کے انتظار میں بیٹھی ہے‘۔

کشمیر میں موبائیل فون صارفین کا بی ایس این ایل پر فحش پیغامات بھیجنے کا الزام ، پڑھیں کیا ہے معاملہ

مذکورہ صارف نے اس نامہ نگار کو بعض پیغامات بھی دکھائے جن میں سے ایک ایس ایم ایس کا متن کچھ اس طرح سے تھا ’یار بات کرنی ہے۔ فری ہوں ابھی میں۔ کال کرو۔۔۔۔۔۔ نمبر پر‘۔ دوسرے ایک ایس ایم ایس کا متن یہ تھا ’کیا کر رہے ہو ابھی۔ فری ہو تو بات کرو۔۔۔۔۔۔ پر‘۔ تیسرے ایک ایس ایم ایس کا متن یہ تھا ’ہاں جی۔ آج تو بات کرو۔۔۔۔۔ پر‘۔ بی ایس این ایل صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے بقول ان کے فحش ، بے حیائی اور غیراخلاقی پیغامات کا موصول ہونا ایک مسلسل عمل ہے۔

ادھیڑ عمر کے ایک بی ایس این ایل صارف نے بتایا ’ایسے پیغامات بھیجنے سے پہلے صنف اور عمر کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کیا جاتا۔ محرم کے مہینے میں بھی ان پیغامات کا موصول ہونا ایک جاری عمل ہے‘۔ ایک اور صارف نے بتایا ’میں ایک ان پڑھ انسان ہوں۔ میں اپنے موبائیل فون پر موصول ہونے والے تمام ایس ایم ایس حذف کرانے سے پہلے اپنی بچیوں سے پڑھاتا ہوں۔ اس طرح کے پیغامات سے جہاں میں اپنی بیٹیوں کے سامنے شرمندگی محسوس کرتا ہوں، وہیں بیوی کے بھی الٹے سیدھے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں اب اس سم کارڈ سے جان چھڑانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں‘۔

بی ایس این ایل صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے سم کارڈوں پر نہ صرف یہ فحش پیغامات بلکہ دوسرے کئی غیرضروری پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض پیغامات ہندی زبان میں ہوتے ہیں جن کو بغیر سمجھے حذف کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا ’بی ایس این ایل کو ان فحش اور غیرضروری پیغامات سے زیادہ اپنی خدمات میں بہتری لانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے‘۔ دوسری طرف جموں میں بھی بی ایس این ایل صارفین کا الزام ہے کہ انہیں بھی فحش اور بے حیائی کے پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔

حالات و واقعات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ بی ایس این ایل کی جانب سے اس طرح کے پیغامات سال 2015 میں بھی بھیجے جارہے تھے، لیکن بزرگ علیحدگی پسند راہنما سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس کی دھمکی کہ فحش پیغامات بھیجنے کا سلسلہ فوری طور پر بند نہیں کیا گیا توبی ایس این ایل کے بائیکاٹ کی اپیل جاری کی جائے گی، کے بعد کمپنی نے نہ صرف فحش پیغامات بلکہ تمام دیگر غیرضروری پیغامات بھیجنے کا سلسلہ بند کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا ’قریب ڈیڑھ سال کے وقفہ کے بعد کمپنی نے اس طرح کے پیغامات دوبارہ بھیجنے شروع کردیے ہیں‘۔ حریت کانفرنس نے سال 2015 کے دسمبر میں ایک بیان جاری کرکے بی ایس این ایل کی طرف سے لوگوں کو موبائیل فونوں پر فحش اور بے حیائی کے پیغامات بھیجنے کا سخت اور سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ یہ سلسلہ فوری طور پر بند نہیں کیا گیا تو حریت کانفرنس ریاست کے لوگوں کو اس کمپنی کے سم کارڈ استعمال نہ کرنے کی اپیل کرے گی اور اس کمپنی کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ حریت نے کہا تھا ’یہ گاہکوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے مترادف بھی حرکت ہے اور اس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز