کشمیر: فوجی سربراہ نے تعلیم پر اٹھائے سوال تو وزیر نے کہا اپنے کام پر دیں دھیان

جموں و کشمیر میں تعلیم کے وزیر سید محمد الطاف بخاری نے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے بیان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاست کو تعلیم پر خطبات نہ دیں۔

Jan 13, 2018 09:11 PM IST | Updated on: Jan 13, 2018 09:11 PM IST

سری نگر۔ جموں و کشمیر میں تعلیم کے وزیر سید محمد الطاف بخاری نے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے بیان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاست کو تعلیم پر خطبات نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو کیسے چلانا ہے۔  خیال رہے کہ فوجی سربراہ نے جمعہ کے روز قومی راجدھانی نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جموں وکشمیر کے اسکولوں میں مکمل بھارت کے بجائے جموں وکشمیر کا نقشہ الگ سے دکھا کر طالب علموں کے اذہان میں غلط باتیں بٹھائی جارہی ہیں۔

ریاستی وزیر تعلیم الطاف بخاری جوکہ پی ڈی پی کے ایک سینئر لیڈر ہیں، نے ہفتہ کو یہاں ایس پی ہائر سکینڈری اسکول میں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے فوجی سربراہ کے متذکرہ بیان پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

کشمیر: فوجی سربراہ نے تعلیم پر اٹھائے سوال تو وزیر نے کہا اپنے کام پر دیں دھیان

وزیر تعلیم الطاف بخاری اور فوجی سربراہ بپن راوت

انہوں نے کہا ’آرمی چیف اس ملک کے ایک محترم اور معزز عہدیدار ہیں۔ وہ ایک پیشہ ور افسر ہیں۔ مجھے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایک ماہر تعلیم ہیں کہ تعلیم پر خطبات دیں گے‘۔ انہوں نے کہا ’کوئی بھی سماج غیرتعلیمی ماہرین کی جانب سے تعلیم پر دیے جانے والے خطبات قبول نہیں کرے گا۔ میں ماہرین تعلیم کے خطبات کا خیرمقدم کروں گا‘۔ مسٹر بخاری نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو کیسے چلانا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے نہیں معلوم کہ وہ (فوجی سربراہ) جانتے ہیں یا نہیں۔ تعلیم کنکورنٹ لسٹ میں نہیں آتا ہے۔ یہ ریاست کے ڈومین میں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو کیسے چلانا ہے‘۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ فوجی سربراہ اپنا کام کریں اور مجھے اپنا کام کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے اسکولی بچے ریڈکلائزیشن کی طرف نہیں جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے یہ معلوم نہیں کہ آرمی چیف نے کیا کہا، کس لہجہ میں کہا ، کہاں کہا اور کس اجتماع میں کہا۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے بچے ریڈکلائزیشن کی طرف نہیں جارہے ہیں۔ وہ اپنا کام کریں، میں اپنا کام کررہا ہوں۔ ان کا کام ہے سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ۔ سرحدوں کی حفاظت ہوگی تو تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی۔ ہمارے تعلیمی نظام میں کوئی خامی نہیں ہے کہ ریڈکلائزیشن ہو رہی ہے‘۔ الطاف بخاری نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں فوج کا کسی چیز پر کنٹرول نہیں ہے۔

Loading...

وزیر موصوف نے کہا کہ تعلیم پر وہ صرف وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ہی خطبات پر عمل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا ’ہماری فوج ایک اچھا کام کررہی ہے۔ جو ان کا کام ہے، انہیں وہ کام کرنا چاہیے، جو بحیثیت ایجوکیشن منسٹر میرا کام ہے۔ میں وہ کروں گا۔ میرا کام ہے بچوں کو تعلیم فراہم کروانا۔ میں بچوں کو بہت اچھی تعلیم فراہم کرا رہا ہوں۔ میرے استاد بہت ہی ذہین ہیں۔ ہمارے بچے بہت اچھے ہیں۔ ہم اگر کسی کے خطبات پر عمل کریں گے تو وزیر اعلیٰ محترمہ مفتی ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ہمارے پاس دو جھنڈے ہیں۔ ہمارے پاس اپنا ریاستی آئین ہے۔ ہر ایک ریاست کا اپنا نقشہ ہے۔ ہر ایک ریاست کے ہر ایک اسکول میں اپنی ریاست کا بھی نقشہ ہوتا ہے۔ اگر فوج اپنا کام صحیح سے انجام دے گی تو علیحدگی پسندی کہیں جنم نہیں لے گی‘۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز