اعظم خاں کی مشکلیں بڑھیں، جوہر یونیورسٹی کی ہو سکتی ہے سی بی آئی جانچ

Jul 04, 2017 12:44 PM IST | Updated on: Jul 04, 2017 12:45 PM IST

رام پور۔ سابقہ اکھلیش حکومت میں قدآور وزیر رہے اعظم خاں کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد وزیر کا عہدہ تو گیا ہی، اب سی بی آئی جانچ کی تلوار بھی لٹکنے لگی ہے۔ دراصل صوبہ کی یوگی حکومت جوہر یونیورسٹی کی لیز پر لی گئی زمینوں کی جانچ سی بی آئی سے کرا سکتی ہے۔ اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت بلدیو سنگھ اولاكھ نے ای ٹی وی / نیوز 18 سے خاص بات چیت میں اس بات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی کے لئے الگ الگ شعبہ عمارت بنواتا تھا جو بعد میں 100 روپے مہینے کی لیز پر جوہر ٹرسٹ میں چلی جاتی تھی۔ اولاكھ نے کہا کہ اب اعظم خاں سے پائی-پائی کا حساب لیا جائے گا۔ بتا دیں جوہر یونیورسٹی کو لیز پر دی گئی زمین اقلیتی، وقف اور دیگر سرکاری محکموں کی ہیں۔ الزام ہے کہ ان زمینوں کو افسروں سے زبردستی لیا گیا۔ اب  یوگی حکومت نے اس معاملے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

اعظم خاں کی مشکلیں بڑھیں، جوہر یونیورسٹی کی ہو سکتی ہے سی بی آئی جانچ

اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت بلدیو سنگھ اولاكھ

وزیر مملکت اولاكھ نے بتایا کہ یہ بہت سنگین موضوع ہے۔ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ 30 کروڑ کی لاگت سے جیل کی جگہ پر بنایا گیا ہے اور اس کے بننے کے بعد جوہر ٹرسٹ نے اسے 100 روپے مہینے کی لیز پر لے لیا۔ اتنا ہی نہیں جوہر یونیورسٹی میں الگ الگ بلڈنگ کی تعمیر سركار کی جانب سے کی گئی اور پھر انہیں جوہر ٹرسٹ کے حوالے کر دیا گیا۔

اولاكھ نے بتایا کہ عمارت کی تعمیر حکومت کے پیسے سے ہوتی تھی اور اس کے بعد اسے جوہر ٹرسٹ کے نام 100 روپے مہینے کی لیز پر ٹرانسفر کر دیا جاتا تھا۔ حکومت اور عوام کے ہزاروں کروڑ روپیوں کو جوہر یونیورسٹی کی تعمیر میں خرچ کیا گیا۔ وزیر نے کہا، "یونیورسٹی کا گیسٹ ہاؤس پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے بنایا گیا۔ اس میں 200 کروڑ سے زیادہ خرچ ہوا۔ گیسٹ ہاؤس تک آرسی سی کی روڈ کی تعمیر بھی محکمہ کی طرف سے 1300 سے زیادہ کروڑ میں کی گئی۔ ٹینٹ بھی بنایا گیا ہے جو گاؤں کی زمین ہے لیکن اب ٹرسٹ میں شامل ہو گیا۔ میڈیکل کالج بھی حکومت کے پیسے سے بن رہا ہے۔"

اولاكھ نے کہا کہ یہ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ اس کی جانچ کرائی جا رہی ہے۔ وزیر اعلی صاحب کے نوٹس میں اس بات کو ڈال دی گئی ہے۔ تمام رپورٹ آنے کے بعد اس کی سی بی آئی جانچ کی سفارش کی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز