تین طلاق : معروف نغمہ نگار جاوید اختر نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے دعوے پر اٹھایا سوال ، دی یہ دلیل

May 19, 2017 06:23 PM IST | Updated on: May 19, 2017 06:23 PM IST

نئی دہلی: معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے مسلم پرسنل لابورڈ کے اس دعوی پر سوال اٹھایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلم خواتین کو تین طلاق کےمسئلہ پر نکاح نامہ کے وقت ہی اپنی رائے ظاہر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ بورڈ نے سپریم کورٹ کے سامنے کل پیش کی گئی اپنی دلیل میں کہا تھا کہ وہ نکاح نامے میں ایسی شق شامل کرے گا جس سے مسلم خواتین کو تین طلاق پر نہ کہنے کی اجازت مل سکے گی۔

مسٹر جاوید نے کہا کہ یہ دعوی بے تکا ہے کہ نکاح نامے کے وقت قاضی دلہن سے تین طلاق پر اس کی رائے لے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انہیں بھی اچھی طرح سے معلوم ہے کہ ایسے موقع پر دلہن کھل کر اپنی رائے دینے کی ہمت نہیں کر پائے گی۔ بورڈ کے وکیل کپِل سبل نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی پانچ رکنی بنچ کے سامنے کل یہ دلیل دی تھی کہ خود مسلم پرسنل لا بورڈ بھی یہ نہیں چاہتا کہ تین طلاق کی روایت جاری رہے۔ اس لئے اس نے تین طلا ق پر نکاح نامے میں دلہن کو اپنی رائے ظاہر کرنے والی شق شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سبھی قاضیوں کو اس بارے میں ایڈوائزری جاری کرکے کہا جائے گا کہ وہ تین طلاق کے عمل پر فوری طور پر روک لگائیں ۔

تین طلاق : معروف نغمہ نگار جاوید اختر نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے دعوے پر اٹھایا سوال ، دی یہ دلیل

file photo

بنچ نے بدھ کے روز سماعت کے دوران مسلم پرسنل لا بورڈ سے یہ پوچھا تھا کہ کیا نکاح نامے میں ایسا کوئی التزام کیا جاسکتا ہے جس سےشادی کے وقت ہی دلہن کو تین طلاق پر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق مل سکے۔ مسٹر اخترنے اس سے قبل بھی مسلم پرسنل لا بوڈ کے اس بیان پر ناراضگی ظاہر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ تین بار طلاق دیکر اپنی بیویوں کو چھوڑنے والوں کا مسلم سماج میں بائیکاٹ کیا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز